انوارالعلوم (جلد 21) — Page 36
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۶ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء صدر جہاں بھی بیٹھے، صدر ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں خلیفہ اگر کالے پانی بھی چلا جائے تو وہ بھی بابرکت بن جائے گا۔برکت مکانوں سے بھی ملتی ہے لیکن مکینوں سے زیادہ ملتی ہے۔مکان دعا ئیں نہیں کرتے مکین دعائیں کیا کرتے ہیں۔مکان جد و جہد نہیں کرتے مکین جد و جہد کیا کرتے ہیں۔مکان بولا نہیں کرتے مکین بولا کرتے ہیں۔مکان تنظیم نہیں کرتے مکین تنظیم کیا کرتے ہیں۔اسی طرح وہ سب باتیں جو جماعت کو بڑھانے والی ہیں مکان کے ساتھ وابستہ نہیں مکین کے ساتھ وابستہ ہیں۔مکان ایک ذریعہ ہوتے ہیں اور مکین وہ مقصود ہوتے ہیں جن کے ذریعہ دنیا ایک نئی زندگی پاتی ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ چھوڑا تو مدینہ کیا تھا۔ایک معمولی سی بستی تھی جہاں کی مشرک اور یہودی بستے تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چلے جانے کے بعد وہی مدینہ برکتوں سے مالا مال ہو گیا اور آج تک برکتوں سے بھرا ہوا ہے۔آپ کے مدینہ سے چلے جانے کی کی وجہ سے مکہ کی برکت زائل نہیں ہوئی بلکہ مدینہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور برکت مل گئی۔خدا تعالیٰ کے خزانے میں صرف ایک برکت نہیں تھی بلکہ اس کے خزانے ہر قسم کی برکتوں کی سے بھرے پڑے ہیں۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے گئے تو لوگوں میں قدرتاً یہ خیال پیدا ہوا کہ مکہ ایک بابرکت اور مقدس مقام تھا۔اب مدینہ میں ویسی برکت کیا ہوسکتی ہے اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ اے خدا! میں مدینہ کے متعلق وہ ساری برکتیں تجھ سے مانگتا ہوں جو مکہ کو حاصل تھیں پھر آپ نے لوگوں کو اکٹھا کی کیا اور فرمایا۔اے لوگو سنو! آج سے ہر برکت جو مکہ کو حاصل تھی مدینہ کو بھی حاصل ہے جو ذمہ داریاں تم پر مکہ میں رہنے کی وجہ سے عائد تھیں وہی ذمہ داریاں یہاں مدینہ میں رہ کر بھی تم پر عائد ہیں۔جس طرح مکہ میں قتل و غارت اور لڑائیاں منع تھیں اسی طرح مدینہ میں بھی قتل و غارت اور لڑائیاں منع ہیں۔پس جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چلے جانے سے مدینہ بابرکت ہو گیا تھا اسی طرح ہر وہ جگہ جہاں خدا تعالیٰ کے نام کو بلند رکھنے کیلئے کوشش کی جائے گی، ہر وہ جگہ جہاں اسلام کے غلبہ کے لئے کوشش کی جائے گی ، ہر وہ جگہ جہاں اسلام کی اشاعت کیلئے کوشش کی جائے گی وہ بابرکت ہو جائے گی چاہے دنیا کا سارا شور اور نمک اُس جگہ پر کیوں