انوارالعلوم (جلد 21) — Page 552
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۵۲ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب اور بائیسکل لے کر غائب ہو گئے ہیں۔آدھ گھنٹہ کے بعد وہ واپس آئے اور کہنے لگے۔بڑا اچھا موقع تھا۔میں ہزار کا آج نفع ہو جانا تھا مگر افسوس کہ کام نہیں بنا۔پھر انہوں نے سنایا کہ بمبئی سے ابھی ہمارے ایجنٹ نے تار دیا تھا کہ ٹائروں کا ریٹ اتنا بڑھ گیا ہے۔میں فوراً بائیسکل پر چڑھ کر بھا گا کہ فلاں دکان پر جتنا مال ہوگا وہ سب کا سب خرید لوں گا اور میرا خیال تھا کہ وہاں ڈا کیہ اتنی دیر میں پہنچے گا کہ میں پہلے سودا کرلوں گا مگر ابھی میں اس سے سو دے کے متعلق گفتگو کر ہی رہا تھا کہ اوپر سے ڈا کیہ آگیا اور اُسے بھی تارمل گیا کہ ٹائروں کا ریٹ اتنا بڑھ گیا ہے اور ہمارا سو دا ہونے سے رہ گیا ورنہ آج ہیں ہزار روپے کا نفع ہو جانا تھا۔اب دیکھو کہ یہ کس قسم کے جنون کی حالت ہے اور کتنا جوش اور فکر ہے جو اُن لوگوں میں پایا جاتا ہے لیکن ایک گاؤں کے بنے میں کچھ بھی جوش نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میرے گاؤں والا مجھ سے ہی سو دا خریدے گا۔شہر میں بعض دفعہ ایک چیز آٹھ آنے پر فروخت ہو رہی ہوتی ہے اور وہ چار آنے پر دے رہا ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایک چیز شہر میں دو آنے کو مل رہی ہوتی ہے اور وہ چار آنے کو دے رہا ہوتا ہے اور گاہک بھی اُس سے سو دا خریدتا ہے خواہ اُسے مہنگا ملے یا ستا۔اسے کیا مصیبت پڑی ہے کہ دھیلے پیسے کی چیز کے لئے شہر کی طرف بھاگا پھرے۔ہمارا عالم بھی اُسی رنگ میں چل رہا ہے جس رنگ میں چھوٹے گاؤں کا بنیا ہوتا ہے۔اُسے احساس ہی نہیں کہ ملک میں کیا ہورہا ہے اور اسے کیا کرنا چاہئے۔اس وقت مخالفت کے سمندر میں ایک جوش پیدا ہورہا ہے ، اس کی لہریں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیں، اس کی موجوں میں تلاطم آ رہا ہے، اس کا پانی دیہات اور کی شہروں اور باغات کی طرف بڑھ رہا ہے مگر وہ آرام سے سوئے ہوئے ہیں۔گویا اُن کی مثال بالکل ویسی ہی ہے جیسے انگریزی میں یہ ضرب المثل ہے کہ :۔روم جل رہا تھا اور نیر و بانسری بجا رہا تھا“ میں تم کو بتا تا ہوں کہ تم اپنے اندر تغیر پیدا کرو۔اگر تم ان کے نقش قدم پر چلے تو سمجھ لو کہ تمہارے لئے موت ہے۔ایمان کے لئے موت نہیں ، دین کے لئے موت نہیں ، سچے مخلصوں کی کے لئے موت نہیں مگر جو ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہوں گے اُن کی یقیناً موت ہوگی۔اس کی میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا میں ہماری فتح یقینی ہے کیونکہ خدا کا ہاتھ ہمارے ساتھ ہے لیکن اس میں