انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 551 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 551

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۵۱ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب آج میں نے خصوصیت سے اس مقام پر یہ جلسہ اس لئے رکھا ہے تا کہ میں طلباء کو بھی اور کی اساتذہ کو بھی ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاؤں۔میں تمہیں ہوشیار کرتا ہوں کہ اس وقت تک تمہارے بعض علماء نے اپنے پینترے نہیں بدلے، انہوں نے ابھی تک زمانہ حال کی ضروریات کے مطابق اپنے آپ کو نہیں ڈھالا ، ان کی جد و جہد اس سے بہت کم ہے جتنی ہونی چاہئے ، ان کے افکار اُس سے بہت کم ہیں جتنے ہونے چاہئیں۔پس میں کہتا ہوں کہ تم زمانہ کی ضرورت کو سمجھو اور زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالو میں تمہیں مسیح ناصری“ کے الفاظ میں کہتا ہوں کہ : فقیہہ اور فریسی جو کچھ کہتے ہیں وہ کرو مگر جو کچھ کرتے ہیں وہ مت کرو۔“ تم اپنے اساتذہ کی باتوں کو سنو اور جو کچھ وہ کہیں اُسی طرح کرو مگر تم ان کے عمل کی طرف کی مت دیکھو اُن میں وہ جد و جہد نہیں پائی جاتی جو ایک پاگل عاشق میں پائی جانی چاہئے ، نہ وہ ان کی را ہوں کو نکالتے ہیں جن راہوں کے نکالے بغیر کامیابی کا حصول مشکل ہے۔پس اس لئے کہ وہ جی عالم ہیں اور تم اُن کے شاگرد بنائے گئے ہو تم اُن کی باتوں کو مانو مگر جیسے مسیح ناصری نے کہا تھا تو کر جو فقیہی اور فریسی کہتا ہے مگر تو مت کر جو فقیہی اور فریسی کرتا ہے۔تم بھی وہ کچھ کرو جو تمہارے اساتذہ تمہیں پڑھائیں مگر تم ان کے اعمال کو اپنے لئے نمونہ مت سمجھو۔اُن میں یہ احساس ہی نہیں کہ وہ دین کیلئے جد و جہد کریں وہ اُسی طرح کھاتے اور پیتے اور آرام سے سوتے ہیں جیسے ایک گاؤں کا بنیا کھاتا پیتا اور سوتا ہے حالانکہ ایک گاؤں کے بنیئے کی زندگی اور نیو یارک یا لندن کے تاجر کی زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔وہ صبح وشام انگاروں پر کوٹ رہا ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ میرا کن سے مقابلہ ہے اور مجھے کس طرح ان سے فوقیت حاصل کرنی چاہئے۔مجھے یاد ہے میں اپنے طالب علمی کے زمانہ میں ایک دفعہ لا ہور گیا وہاں ایک بائیسکلوں کے تاجر مستری موسیٰ صاحب ہوا کرتے تھے جو اپنے کام میں بڑے ہوشیار تھے۔وہ ایک دن دکان میں مجھ سے باتیں کر رہے تھے اور اوپر سے ڈاک والا آیا اور اس نے ایک تاران کے ہاتھ میں دے دیا۔اُنہوں نے تار پڑھتے ہی فوراً بائیسکل لیا اور اس پر سوار ہو کر بڑی تیزی کے ساتھ کہیں باہر نکل گئے۔میں حیران ہوا کہ یہ تارکیسا آیا ہے کہ انہوں نے بات بھی پوری نہیں کی