انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 540

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۰ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب ہے۔پس سودا نے جو کچھ کہا ٹھیک کہا مگر پھر ڈر کر بادشاہ کی ملازمت چھوڑ کر چلے گئے۔تو خیالات کے اظہار کے بھی بعض مواقع ہوتے ہیں اور ان کے خیالات کے اظہار کے لئے بعض محرکات کی ضرورت ہوتی ہے۔اس وقت بیسیوں مبلغ بیرونی ممالک میں کام کر رہے ہیں اور ان سے بعض دفعہ اپنے کا موں میں غلطیاں بھی ہوتی ہیں۔رپورٹیں آتی ہیں ہم انہیں پڑھتے ہیں تو ہم ان پر ایک آدھ نوٹ دے دیتے ہیں اور بات ختم ہو جاتی ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ میں اس وقت تقریر شروع کر دوں۔پھر چند دنوں کے بعد ان کی طرف سے دوسری رپوٹ آتی ہے اور ہمیں کوئی اور غلطی نظری آتی ہے جس کی طرف انہیں اختصار کے ساتھ توجہ دلائی جاتی ہے اور بات ختم ہو جاتی ہے لیکن ایسے مواقع پر جب مبلغین سامنے موجود ہوں اور محرک نظر آرہا ہو تو ہمیں بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جاتا ہے اور کئی مضامین کسی محرک کے نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک بیان نہیں ہوئے ہوتے اس طرح بیان ہو جاتے ہیں اور لوگوں کو فائدہ پہنچ جاتا ہے۔پس ایک طرف نوجوانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلانا اور انہیں تحریک کرنا کہ وہ وہی طریق اختیار کریں جس پر ان کے پہلے بھائی چل چکے ہیں اور دوسری طرف آنے والوں کو توجہ دلا نا کہ وہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کریں اور اپنے کاموں میں مزید تقویت پیدا کریں ، اپنے اندر جرأت اور بہادری کا مادہ پیدا کریں اور غور اور فکر سے کام لینے کی عادت ڈالیں۔یہ مقاصد ہیں جن کے ماتحت اس قسم کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ادھر جو کارکن ان سے کام لے رہے ہیں ان کے فرائض کی طرف بھی اس موقع پر انہیں توجہ دلا دی جاتی ہے اور اس طرح کام لینے والوں اور کام کرنے والوں دونوں کی اصلاح ہو جاتی ہے۔یہ امر یا د رکھنا چاہئے کہ جو کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے وہ اتنی نوعیتوں کا حامل ہے اور اتنا پھیلاؤ اپنے اندر رکھتا ہے کہ جب تک ہمارا دماغ اس کام کا ہر وقت جائزہ نہ لیتا رہے ، نہ وہ پوری طرح ہمارے ذہنوں میں آسکتا ہے اور نہ ہم اس کے لئے تیاری کر سکتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ ہماری جماعت کی بنیاد ایک مامور کے ہاتھ سے رکھی گئی ہے ہماری جماعت کوئی سوسائٹی نہیں جسے عام سوسائٹیوں کے طریق پر چلایا جائے۔یہ ایک مذہب ہے اور مذہب بھی ایسا جس