انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 520

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۰ اسلام اور ملکیت زمین سا را معاملہ مالک زمیندار دیتا ہے۔پس اس معاملہ میں مغربی پنجاب کی حالت درست کرنی ہے نہایت ضروری ہے۔لیکن اس کا طریق یہ نہیں کہ ہم کوئی قانون بنا ئیں جس سے جبراً یہ اصلاح کریں۔اس کا طریق شرعی طور پر نکالا جا سکتا ہے بغیر اس کے کہ قانونِ شریعت کو توڑا جائے۔میری اپنی رائے یہ ہے کہ جو بھی تبدیلی ہو اُس میں معاملہ اور آبیانہ مزارع زمیندار کے ذمہ ڈالا جائے ورنہ بہت سی خرابیاں پیدا ہوں گی۔حکومت کو بھی معاملہ اور آبیانہ کی وصولی میں دقتیں ہوں گی اور مالک زمیندار کو بھی نا قابل برداشت نقصان پہنچے گا۔پنجاب میں نمبر داری کا طریق ہے رائج ہے اور گورنمنٹ کی طرف سے نمبر دار ذمہ دار ہوتا ہے کہ سارے معاملہ کو وقت پر داخل کی کرے خواہ لوگوں نے وہ معاملہ دیا ہو یا نہ دیا ہو۔اور میرا تجربہ ہے کہ ہر سال سینکڑوں نمبر دار ذلیل اور خوار ہو کر افسروں کی گالیاں سنتے ہیں اور بعض جیل خانے میں جاتے ہیں اس وجہ سے کہ وہ وقت پر معاملہ نہیں دے سکے۔اور جو بچ جاتے ہیں وہ بھی اسی طرح بچتے ہیں کہ لوگوں کی سے قرض لے کر معاملہ ادا کر دیتے ہیں یا بیویوں کے زیور بیچ کر ادا کر دیتے ہیں۔بعد میں بے شک گورنمنٹ بقائے کی وصولی میں اُن کی مدد کرتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ وقت پر اُن کو روپیہ کی کہاں سے ملے۔پس میرے نزدیک سب جگہ نہیں بعض جگہ حصہ مالک اور حصہ مزارع میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے۔مزارع زمیندار کا حصہ یقیناً بڑھانے کی ضرورت ہے ورنہ وہ تندرستی کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا نہ اُس کا خاندان انسانی وقار کو قائم رکھ سکتا ہے۔مگر یہ فرق مختلف جگہوں پر الگ الگ ہے کوئی ایک قانون اس فرق کو دُور نہیں کر سکتا۔کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تین چارمن فی ایکڑ گندم کی پیدائش ہے، کوئی ایسی جگہ ہے جہاں پندرہ سولہ من فی ایکٹر گندم کی پیدائش ہے اور کوئی ایسی جگہ ہے جہاں پچھیں چھبیس من فی ایکڑ گندم کی پیدائش ہے۔میری مراد یہ نہیں کہ ہرا پکڑ کے فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے بلکہ میری مراد اس اوسطاً پیدا وار سے ہے جو پچاس ساٹھ یا سو میل کے حلقہ میں ہوتی ہے۔اس فرق کو محوظ رکھنا نہایت ضروری ہے پس کوئی ایک قانون یہ اصلاح نہیں کر سکتا۔اس کے متعلق ماہرین کی ایک کمیٹی بٹھانی چاہئے جو مختلف علاقے پیداوار کے لحاظ سے تجویز کریں۔جس کا یونٹ میرے نزدیک کم سے کم ایک تحصیل کے برا بر ہو اور پیداوار کے لحاظ سے یہ تعین کی جائے کہ یہاں کا مزارع زمیندار کتنی مزید آمد کا مستحق ہے۔اسی طرح باقی جنسوں کی پیداوار کے متعلق بھی غور کیا جائے۔اس کے بعد ہر یونٹ