انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 519

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۹ اسلام اور ملکیت زمین ہے تا کہ اختتام معاہدہ تک وہ نمبر اُس سے نہ لئے جائیں اور وہ اس یقین سے کاشت کرے کہ کھاد اور زمین بنانے کا فائدہ وہ وقت مقررہ تک ضرور اُٹھائے گا سوائے اس کے وہ خود اپنی مرضی سے اس زمین کو چھوڑنا چاہے۔اگر ایسا ہو جائے تو مزارع زمیندار کی مشکلات اور بھی دور ہو جائیں گی۔ان مشکلات کا تجر بہ مجھ کو نہری زمینوں میں ہوا ہے ورنہ ہماری پرانی زمینیں جو قادیان اور اُس کے گردو نواح میں تھیں وہاں مزارع اور ہمارے مختاروں کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوتا تھا اس لئے کہ مستقل زمین ہونے کی وجہ سے زمین کے بدلنے یا پانی وغیرہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور ہمارے بعض مزارع ایسے تھے کہ باوجود موروثی نہ ہونے کے وہ پچاس یا ساٹھ سال سے اُسی زمین پر قابض چلے آتے تھے جو ہمارے آباء سے اُنہوں نے لی تھی تی اور چونکہ ہم اپنے مختاروں کو ظلم نہیں کرنے دیتے تھے ہمارے مزارع اتنے دلیر ہوتے تھے کہ وہ کی بسا اوقات ہمارے سامنے غیر منصفانہ طور پر ہی نہیں بلکہ وحشیانہ طور پر بھی کلام کر لیا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ زمینداروں کے کسی جھگڑے کے سلسلہ میں ایک تحصیلدار میرے پاس بعض ہمارے مزارعوں کو لے کر آیا۔میں نے تھوڑی سی بات کی تھی کہ ایک مزارع بولا کہ ان کو ہم سے کیا زائد حق ہے۔میں تو ہنس پڑا لیکن تحصیلدار نے اُس کو ملامت کی کہ انہوں نے کس اخلاق سے بات کی ہے اور تم نے کیسی بد تہذیبی اختیار کی ہے۔میں نہیں جانتا کہ اور لوگوں کے ساتھ پکی زمینوں میں کیا حالات گزرتے ہیں مگر ہمارا مزارع قادیان اور نواحی کا پوری طرح مطمئن کی تھا۔ہاں نہری زمینوں کے تجربہ کے بعد مجھے افسوس ہے کہ مزارع زمیندار کی حالت وہاں ایسی اچھی نہیں جیسی کہ ہونی چاہئے اور اُس کے ساتھ پورا انصاف نہیں برتا جاتا۔بٹائی وغیرہ کے متعلق جو جھگڑے ہیں میرے نزدیک وہ بھی بغیر اس کے کہ شریعت کو توڑا جائے یا انصاف کو توڑا جائے طے کئے جاسکتے ہیں۔جہاں تک ہمارے ملک کے موجودہ زراعتی نظام کا تعلق ہے یہ بات ظاہر ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ نہری زمینوں کو چھوڑ کر بارانی تج زمینوں سے مزارع زمیندار ایسا گزارہ پیدا نہیں کر سکتا جس کو کہ انسانی زندگی کے معیار کے مطابق کہا جا سکے اس لئے ایسی زمینوں کی پیداوار میں یقیناً مزارع کا حصہ موجودہ دستور سے زیادہ ہونا چاہیے۔پنجاب میں مزارع زمیندار ہی سب معاملہ دیتا ہے بخلاف سندھ کے جہاں