انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 16

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۶ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء یا آپ اور روپیہ بھیج دیں گے تا آپ کے نام پر پوری ایک کنال زمین ریز روکر دی جائے۔بجائے اس کے کہ وہ دفتر والوں کو اطلاع دیتے کہ ان کے لئے دس مرلہ زمین ہی ریز رو کردی جائے یا وہ ایک سو رو پید اور بھیج دیں گے اور ان کے نام پر ایک کنال زمین ریز رو کر دی جائے اُنہوں نے بحث جاری رکھی اور مجھے لکھنا شروع کر دیا کہ حضور نے فرمایا تھا کہ ۱۵ اکتو بر تک زمین ایک سو روپیہ فی کنال کے حساب سے دی جائے گی ہم نے ۱۵ اکتوبر سے پہلے روپے ارسال کر دیئے تھے پھر ہمیں زمین سو روپیہ پر کیوں نہیں ملتی ؟ اور اس عرصہ میں وہ دوسو روپیہ کنال والی زمین بھی ختم ہوگئی اور دفتر والوں نے انہیں لکھا کہ اب زمین کی قیمت تین سو روپیہ کی فی کنال ہے اگر آپ پچاس روپیہ اور بھیج دیں تو آپ کیلئے دس مرلہ زمین ریز رو ہوسکتی ہے اور اگر آپ مزید روپیہ نہیں بھیجنا چاہتے تو اپنا روپیہ واپس لے لیں کیونکہ دس مرلہ سے کم زمین نہیں مل سکتی۔اس پر انہوں نے یہ لکھنا شروع کر دیا کہ ابھی تو آپ دوسو روپیہ پر ایک کنال زمین دے رہے تھے اور اب آپ لکھ رہے ہیں کہ زمین تین سو روپیہ پر ملے گی ہمیں دو سو روپیہ کی فی کنال کے حساب سے زمین لینی منظور ہے۔پھر وہ ایسی بحث میں مشغول رہے اور زمین کی تی قیمت ۵۰۰ سو روپیہ فی کنال ہو گئی اور انہیں لکھ دیا گیا کہ اب زمین کی قیمت پانچ سو روپیہ فی کنال ہے اگر آپ زمین لینا چاہتے ہیں تو اور روپیہ بھیج دیں ورنہ آپ اپنی رقم واپس لے سکتے ہیں۔اُنہوں نے لکھا کہ ابھی تو آپ تین سو روپیہ پر ہمیں ایک کنال دے رہے تھے اور ی اب آپ کہتے ہیں کہ زمین کی قیمت پانچ سو روپیہ فی کنال ہوگئی ہے۔ہمیں تین سو روپیہ پر ایک کنال منظور ہے۔آپ ہمیں اسی قیمت پر زمین دے دیں۔غرض ان کے بھولے پن کی وجہ سے زمین کی قیمت ایک سو روپیہ سے پانچ سو روپیہ فی کنال ہوگئی اور ابھی قیمتیں یقیناً اور بڑھیں گی۔حقیقت یہ ہے کہ قلیل سے قلیل حیثیت کا قصبہ بھی چھپیں تھیں لاکھ روپیہ کے بغیر تعمیر نہیں ہوسکتا ریہ ایسی عمارتیں ہونگی جو سارے قصبہ کے کام آئیں گی۔اب یہ صاف بات ہے کہ یہ روپیہ کوئی ایک شخص نہیں دے گا بلکہ یہ خرچ تمام قصبہ پر پڑے گا۔قادیان کے لوگوں کی تکالیف کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے زمین کا کافی رقبہ اُن لوگوں کیلئے مخصوص کر دیا تھا تا کہ جو نئے مرکز میں مکان کیلئے زمین لینا چاہیں وہ ایک سو روپیہ فی کنال