انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 348

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۴۸ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی یہ یقین پیدا نہ ہو کہ جو قدم تم اُٹھاؤ گے اس کے نتیجہ میں عزت والی زندگی یا عزت والی موت ملے گی تو قدم اُٹھانے سے پہلے تم بہت احتیاط سے کام لو گے اتنی احتیاط سے کہ بسا اوقات کام کا وقت گزر جائے گا۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافق لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ کا فر بڑے جتھے والے ہیں اور مومن کمزور ہیں پھر مومنوں کو فتح کیسے میسر آ سکتی ہے۔لے تم میں سے بھی بعض کمزور ایمان والے لوگ ان کا ساتھ دے دیتے ہیں مگر کیا تم نے کبھی اتنا بھی سوچا ہے کہ دنیا میں لوگ ہمیشہ فتح کے لئے نہیں لڑا کرتے بلکہ لڑائیاں اور وجوہات سے بھی ہوتی کج ہیں۔مثلاً ایک شخص راستہ پر چلا جاتا ہے ڈاکو اُس پر حملہ کر دیتے ہیں وہ اُن کا مقابلہ کرتا ہے اور ی مارا جاتا ہے۔اس واقعہ کا جہاں کہیں ذکر کیا جاتا ہے یہی کہا جاتا ہے کہ فلاں نے کیا ہی اچھا نمونہ دکھایا ہے۔فلاں نے بزدلی نہیں دکھائی بلکہ اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا ہے۔حضرت امام حسین جب گھر سے باہر نکلے تھے تو وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ وہ ضرور جیت جائیں گے۔لوگ کہتے ہیں کہ کوفہ والوں نے بغاوت کی تھی یہ ٹھیک ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امام حسین کوفہ والوں سے مل کر ساری دنیا سے لڑ سکتے تھے؟ امام حسین یہ سمجھتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنت چلی آئی ہے کہ بعض اوقات ایک چھوٹی جماعت اپنے سے بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہے۔یہ نہیں کہ آپ کو اپنی فتح کا احساس نہیں تھا آپ کو اپنی فتح کا احساس ضرور تھا لیکن غالب خیال یہ تھا کہ یا تو انہیں دشمن کے مقابلہ میں فتح نصیب ہوگی یا شاندار موت تو کہیں گئی ہی نہیں۔قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ اے مسلمانو! تمہیں عزت والی زندگی اور شاندار موت دونوں کی چیزوں میں سے ایک چیز ضرور ملے گی ہے لیکن تمہارے دشمنوں کو یا تو دونوں چیزیں نہیں ملیں گی اور یا دونوں چیزوں کا ملنا اس کے لئے مشتبہ سا ہے لیکن تمہارے پاس دونوں چیز میں یقینی ہیں۔پھر بہا درکون ہے تم یا تمہارا دشمن؟ پس دوستوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندرا حساس قومی پیدا کریں اور چاہیے کہ عمل ان کے لئے خوشکن چیز ہو۔بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ بھی کوئی خوشکن نظارہ نہیں ہو گا تم اپنے اندر یہ احساس پیدا کرو کہ ہر کام کو اپنا کام سمجھو اور اسے اس نیت اور ارادے سے کرو کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ایک بات پر میں اظہار افسوس بھی کرتا ہوں اور وہ یہ کہ مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ گل شام کو