انوارالعلوم (جلد 21) — Page 347
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۴۷ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی نقد ی تھی بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ قادیان سے ہماری ہجرت ایک آسمانی تقدیر تھی فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۴۹ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام ربوہ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد فرمایا:۔گل میں نے احباب جماعت میں تحریک کی تھی کہ چونکہ آپ ہی مہمان ہیں اور آپ ہی میزبان ہیں اس لئے کام خود سنبھالیں اور کارکنوں کے ساتھ مل کر جلسہ سالانہ کی خدمات سرانجام دیں۔ہمارے پاس چونکہ کارکن کم ہیں اس لئے جلسہ سالانہ کے کام جلسہ سالانہ پر آنے والے دوستوں کے تعاون سے ہی سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔آج دفاتر کی طرف سے مجھے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ اس تحریک کے ماتحت احباب جماعت نے کارکنوں کے ساتھ بہت تعاون کیا ہے اور وہ تمام دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔میں بھی ان دفاتر کے ساتھ اپنی خوشنودی کا اظہار کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے فرائض کے ادا کرنے اور احکام کی فرمانبرداری بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔درحقیقت ایمان اور اخلاص کا یہی نمونہ ہے جو ہم لوگوں کے سامنے پیش کر سکتے ہیں تا انہیں یہ احساس ہو جائے اور یہ احساس مجھ کو اور آپ کو بھی ہو جائے کہ ایک انگلی اُٹھے گی تو آپ سب کھڑے ہو جائیں گے اور وہ انگلی جھکے گی تو آپ سب بیٹھ جائیں گے۔تب دنیا یہ سمجھ لے گی کہ اس جماعت کو کچلنا آسان بات نہیں اور جماعت کا امام بھی سمجھ لے گا کہ وہ اپنی جماعت کو ہر دشوار ترین راستہ پر چلا سکتا ہے کیونکہ دنیا میں کو ئی شخص صرف اس نیت سے کام نہیں کیا کرتا کہ اُسے ضرور فتح نصیب ہوگی بلکہ کام کرنے والا یہ جانتا ہے کہ اس کے لئے یا تو عزت والی زندگی مقدر ہے اور یا پھر اسے عزت والی موت نصیب ہوگی۔دونوں میں سے ایک میں اس کا ضرور حصہ ہوگا۔اور اگر