انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 304

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۰۴ پاکستان کی ترقی اور اس کے استحکام کے سلسلہ میں زریں نصائح کیا کرتے ہیں یا کم حفاظت کیا کرتے ہیں۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی عورت کہے کہ میں فلاں بچہ کے سر پر نہیں بیٹھتی کیونکہ یہ کسی اور کا بچہ ہے میں تو اپنے بچہ کے سر پر بیٹھوں گی۔یہ صاف بات ہے کہ اگر وہ اپنے بچہ کے سر پر بیٹھے گی تو وہ مر جائے گا پس بیشک یہ درست ہے کہ اب ہماری اپنی حکومت ہے، یہ بھی درست ہے کہ اب ہماری اپنی ریل ہے مگر اپنی حکومت اور اپنی ریل کو زیادہ بچایا کرتے ہیں یا زیادہ نقصان پہنچایا کرتے ہیں؟ یا اپنا بچہ ہو تو ہم اس کی کم قدر کیا کرتے ہیں یا زیادہ قدر کیا کرتے ہیں؟ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانہ میں ایک دفعہ دو عورتوں میں جھگڑا ہو گیا اُن کا خاوند کہیں باہر گیا ہوا تھا کہ اس کے جانے کے تھوڑے دنوں کے بعد ہی دونوں کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا۔اس نے دو سال کے بعد واپس آنا تھا یہ واضح بات ہے کہ واپسی پر وہ پہچان نہیں سکتا تھا کہ اس کا بچہ کونسا ہے اور اُس کا بچہ کونسا ہے۔اتفاق ایسا ہوا کہ ابھی وہ گھر پر نہیں پہنچا تھا کہ ان کی دونوں عورتوں کو ایک شادی میں شریک ہونے کے لئے کہیں باہر جانا پڑا۔راستہ میں جنگل آتا تھا تجھ وہ جا رہی تھیں کہ بھیڑ یا آیا اور اُن میں سے ایک کا بچہ اُٹھا کر لے گیا۔جس عورت کا بچہ بھیٹر یا تی اُٹھا کر لے گیا اُس نے سمجھا کہ جب میرا خاوند گھر میں آیا اور اس نے دیکھا کہ دوسری عورت کا تو بچہ ہے اور میرا کوئی بچہ نہیں تو اُس کی محبت مجھ سے کم ہو جائے گی اور دوسری عورت سے زیادہ محبت کرنے لگ جائے گا۔وہ چالاک عورت اس خیال کے آتے ہی اس نے دوسری عورت کا بچہ اُٹھا لیا اور کہنے لگی یہ میرا بچہ ہے۔بھیڑ یا تیرا بچہ اُٹھا کر لے گیا ہے۔اس پر ان دونوں کی ج آپس میں خوب لڑائی ہوئی۔ایک کہتی کہ یہ میرا بچہ ہے اور دوسری کہتی کہ یہ میرا بچہ ہے۔وہ اس جھگڑے کو کئی قاضیوں کے پاس لے کر گئیں مگر کوئی شخص یہ فیصلہ نہ کر سکا کہ بچہ کی اصلی ماں کونسی ہے۔آخر چلتے چلتے یہ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کے پاس پہنچا حضرت سلیمان علیہ السلام کو بھی پتہ لگ گیا کہ اس اس طرح کا ایک مقدمہ عدالتوں میں چل رہا ہے مگر ابھی تک اس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔وہ نوجوان تھے اور نوجوانی میں جوش زیادہ ہوتا ہے انہوں نے اپنے والد کو کہلا بھیجا کہ یہ مقدمہ میری عدالت میں بھیجوا دیا جائے میں اس کا فیصلہ کر دوں گا۔اُنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ان دونوں عورتوں کو بھجوا دیا جب یہ ان کے پاس گئیں اور