انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 267

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶۷ خدام الاحمدیہ کے قیام سے وابستہ توقعات بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدام الاحمدیہ کے قیام سے وابستہ تو قعات ( فرموده ۳۰/اکتوبر ۱۹۴۹ء برموقع افتتاح سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ ) تشہد، تعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔خدام الاحمدیہ کے قیام سے میرا مقصد دراصل یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح ہمارے نو جوانوں میں وہ روحانیت پیدا ہو جائے کہ وہ قوم کی آئندہ اپنے کندھوں پر پڑنے والی ذمہ داریوں کو ا اُٹھا سکیں۔یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ہماری جماعت کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے اور نہ ہی مذہبی جماعتیں کبھی سیاست کے تابع چلا کرتی ہیں بلکہ سیاست خود اُن کی غلامی میں پناہ ڈھونڈا کرتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ ہم نے اپنے وطن کے گذشتہ سیاسی بحران میں بھی محض تعاون اور قوم کے نیک طبیعت اکابر کی اعانت ہی کو کافی سمجھا اور باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے سے ہمیشہ پہلو تہی اختیار کی۔باؤنڈری کمیشن کے ایام میں میں خود مدد کرتا رہا۔پھر مصائب سے پر ایام میں بھی ہم نے ہر ممکن اعانت کی لیکن اس کے باوجود ہم بحیثیت جماعت کسی سیاسی پارٹی میں مدغم نہیں ہوئے بلکہ اس سے آزاد رہ کر صرف جائز حد تک تعاون ہی کو کافی سمجھا کیونکہ مومن کبھی کسی ایسی چیز یا سرگرمی میں انہماک پسند نہیں کرتا جو اللہ اور اس کے رسول کی غلامی کے جوئے کو پوری طرح اپنی گردن پر نہ رکھے۔ہماری جماعت ایک روحانی جماعت ہے اور ہر مذہبی تحریک کی بنیاد روحانیت ہی پر ہوا کرتی ہے یہی وجہ تھی کہ جب میں نے خدام الاحمدیہ قائم کی تو میرا مقصد محض یہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح صحیح معنوں میں دین کو دنیا پر مقدم کرنا سیکھ لے۔لیکن افسوس اس نے اس رنگ میں میری