انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 262

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۶۲ اسلام اور موجودہ مغربی نظریے زمین خرید سکتا ہے تاجر یا صناع یا ملازم زمین نہیں خرید سکتا۔میں اُن سے کہا کرتا تھا کہ یہ کونسا کی انصاف ہے تم نوکری بھی کر سکو، تجارت بھی کر سکو، صنعت و حرفت بھی کرسکو ، کارخانہ بھی چلا سکو اور ملازم پیشہ لوگ یا تاجر یا صناع یا کارخانه دار زمین نہ خرید سکیں۔یا تو تمہارے لئے بھی یہ قانون ہونا چاہیے کہ کوئی زمیندار نوکری یا تجارت وغیرہ نہیں کر سکتا مگر تم زمینداریاں بھی کر سکو، نوکریاں بھی کرسکو، تجارت بھی کر سکو، کارخانے بھی چلا سکو، یہ اور بات ہے کہ تم ایسا نہ کرو مگر بہر حال کوئی قانون تمہارے رستہ میں روک نہیں۔تم سب کچھ کر سکتے ہو مگر غیر زمیندار کے لئے تم نے یہ قانون بنوایا ہے کہ وہ زمین نہیں لے سکتا کسی دن تم اس کا خمیازہ بھگتو گے۔چنانچہ اب غیر زمیندار آگے آگئے ہیں اور اُنہوں نے زمینداروں کے خلاف یہ قانون تجویز کر دیا ہے اور اس کا نام مساوات رکھا جا رہا ہے حالانکہ یہ ایک غیر طبعی مساوات ہے حقیقی مساوات نہیں۔فرض کرو کسی کے پاس ۲۵ /۱ یکٹر زمین ہے اور اُس کے دو بیٹے ہیں تو ہر بیٹے کو ساڑھے بارہ بارہ ایکٹر زمین آئے گی۔اس کے بعد اگر ان کے بھی دو دو بیٹے ہوئے تو چھ چھ ایکڑ زمین ہر ایک کے حصہ میں آ جائے گی اور اگر چار بچے ہوئے تو صرف ڈیڑھ ڈیڑھ ایکڑ زمین آئے گی اس طرح کوئی صورت بھی اُن کے گزارہ کی باقی نہیں رہے گی۔پس یہ عجیب قانون ہے جو ایک دو نسلوں کی تک ہی چل کر ختم ہو جائے گا۔کوئی قانون ایسا ہوتا ہے جو سو ڈیڑھ سو سال تک جاتا ہے ، کوئی کی قانون ایسا ہوتا ہے جو دو چار سو سال تک جاتا ہے مگر یہ قانون تو ایسا ہے جو ایک نسل کے لئے بھی کافی نہیں اور اگلی نسل کے پاس صرف اس قدر زمین رہ جائے گی جس میں اُس کے گزارہ کی تی کوئی صورت ہی نہیں ہوگی۔پھر یہ کونسا انصاف ہے کہ مزدور اگر ترقی کرنا چاہے تو کر جائے ، کلرک اگر ترقی کرنا چاہے تو کر جائے مگر زمیندار کے لئے ترقی کے ہر قسم کے راستے مسدود کر دیئے جائیں۔اگر آج ایک مزدور ترقی کرنا چاہے تو کوئی قانون اُسے ترقی سے نہیں روکتا۔کئی مزدور ایسے ہیں جو ترقی کر کے فورمین بن جاتے ہیں اور دودو، اڑھائی اڑھائی سو روپیہ ماہوار کماتے ہیں۔سندھ میں مجھے ایک دوست ملے جو مستری سے ترقی کر کے انجینئر بنے تھے اُنہوں نے باتوں باتوں میں مجھ سے ذکر کیا کہ میں حیران ہوتا ہوں لوگ اپنی ذات اور قومیت کو چھپاتے