انوارالعلوم (جلد 21) — Page 250
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۵۰ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔نتیجہ یہ ہو گا کہ تم روحانی طور پر مر جاؤ گی اس لئے کہ تمہارے اندر بیماری پیدا ہوگئی ہے۔ہم نماز پڑھتے ہیں لیکن اس کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے ، روزہ رکھتے ہیں لیکن اس کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے ، ہم اندھا دھند چلے جاتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح جسم غذا جذب نہیں ہے کرتا تو وہ مر جاتا ہے اسی طرح ہماری روح غذا جذب نہ کرنے کی وجہ سے مر جاتی ہے۔انسان کی کو اس کی نگرانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ روحانی غذا ئیں اُس کے تن لگتی ہیں کہ نہیں ، ان غذاؤں سے اُسے روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے یا نہیں۔ان غذاؤں سے پیدا شدہ تغیرات کو نہ دیکھیں تو ہوسکتا ہے ہمارے اندر کوئی بیماری پیدا ہو جائے اور ہم وقت پر اس کا علاج نہ کریں کی اور ہلاکت میں مبتلا ہو جائیں۔تمہارے لئے میں پھر خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ اوّل لجنہ اماءاللہ کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ وہ با قاعدگی سے نماز ادا کرے۔دوم دینی مشاغل میں وہ یادر کھے کہ جس طرح جسم کی غذا ہے اُسی طرح روح کی بھی غذا ہے جس طرح جسم کو غذا نہ ملے تو وہ مر جاتا ہے اسی طرح روح بھی بغیر غذا کے مر جاتی ہے۔مگر نہ جسمانی غذا جسم کا مقصود ہے نہ روحانی غذا روح کا مقصود ہے۔جسمانی غذا ہم اس لئے استعمال کرتے ہیں تا خون پیدا ہو اور طاقت حاصل ہو اور اُس طاقت سے ہم دوسرے کام کریں۔اسی طرح روحانی غذاؤں کی بھی یہی غرض ہے کہ ہمیں روحانی طاقت ملے جس کے ذریعہ ہم دوسرے کام کر سکیں۔اگر غذا ہی اصل مقصود ہوتی تو خدا تعالیٰ یہ کیوں فرماتا۔فويل للمصلين الذينَ هُمْ عَن صَلاتِهِمْ سَاهُونَ " کہ لعنت ہے ایسے نمازیوں پر جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض نمازیوں کی نماز اُن کی کے لئے لعنت کا موجب بھی ہو سکتی ہے۔نماز ، روزہ ، زکوۃ، حج اور دوسری عبادات پر خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے ذریعہ جو طاقت پیدا ہوتی ہے اُس کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔پھر میں نے بتایا کہ روحانی طاقتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک جذبہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دوسرے شخص کے اندر بھی وہی اخلاق فاضلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اُس کے اندر پائے جاتے ہیں۔تم اپنے اندر تبلیغ کا مادہ پیدا کرو۔اگر تم ایسا نہیں کرتیں تو تمہارے لئے موت مقدر ہے۔ہیضہ جب آتا ہے تو پہلے وہ تمہارے ہمسایہ پر حملہ کرتا ہے اور