انوارالعلوم (جلد 21) — Page 249
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴۹ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔سردیوں کا موسم تھا صبح کی نماز کے لئے جو اُٹھا تو اُسے سردی لگی۔مولوی نے اُسے یہ بھی بتا یا تھا کہ اگر پانی نہ ملے یا کوئی بیمار ہو تو وہ تیم کر لے۔اُسے سردی لگی تو اُس نے خیال کر لیا کہ چلو تیم ہی کرلوں۔اتفاقاً اُس کے پاس تو ا پڑا تھا۔اندھیرے میں اُس نے توے پر ہاتھ مار کر تیم کر لیا۔جونہی اُس نے اپنے ہاتھ منہ پر پھیرے وہاں سیا ہی لگ گئی۔جب اُس نے پانچ نمازیں پڑھ لیں تو خیال کر لیا اب تو نو ر آ جانا چاہیے۔اُس نے بیوی کو کہا دیکھو میرے منہ پر نور ہے یا نہیں ؟ بیوی کو بھی نور کا علم نہیں تھا اُس نے کہا مجھے تو کوئی تغیر معلوم نہیں ہوتا ہاں سیاہی زیادہ کی معلوم ہوتی ہے۔میراثی نے کہا اگر نور سیاہ ہوتا ہے تو پھر تو گھٹائیں باندھ کر آیا ہے دیکھو! میرے ہاتھ بھی سیاہ ہو گئے ہیں۔یہ ایک لطیفہ ہے لیکن اس سے پتہ لگتا ہے کہ انسانی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ اُسے محنت کے بدلہ میں کچھ ملے۔جس کام کے بدلہ میں کچھ نہ ملے وہ کام لغوی سمجھا جاتا ہے۔پس اگر کوئی شخص یہ تقاضا کرے کہ اُسے نماز کے بعد کیا ملا تو اُس کا یہ تقاضا صحیح ہوگا۔اسی چیز کی طرف خدا تعالیٰ اِس آیت میں اشارہ کرتا ہے کہ ان الصّلوةَ تَنْهى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ نماز بے حیائیوں اور بُری باتوں سے روکتی ہے۔اسی طرح روزے کے متعلق فرمایا۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ تا تمہارے اندر تقویٰ کی طاقت پیدا ہو جائے۔اسی طرح زکوۃ سے بھی دل میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔قرآن کریم میں سب اصول بیان کر دیے گئے ہیں اور اصول ہی اصل چیز ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ پانی پینے سے پیٹ بھر جاتا ہے لیکن بخار والے مریض کا پانی کی سے پیٹ نہیں بھرتا بلکہ وہ پانی مانگتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح نماز کا خاص فائدہ یہ ہے کہ وہ چی نا پسندیدہ باتوں سے روکتی ہے اور نیکی کی طاقت پیدا کرتی ہے۔اگر ہمیں وہ طاقت حاصل نہیں ہوتی تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری روحانی صحت میں ضرور کوئی خرابی ہے۔جس طرح بخار والا غذا قبول نہیں کرتا یا غذا کھانے سے اُسے اسہال شروع ہو جاتے ہیں، قے ہو جاتی ہے اور اس کی سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اُس کے اندر بیماری پیدا ہو گئی ہے۔ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور اُس بیماری کا علاج کرواتے ہیں اگر علاج نہ کروایا جائے تو مرض بڑھ جاتا ہے۔اسی طرح کی روحانی غذاؤں سے اگر روحانی طاقت حاصل نہیں ہوتی اور پھر تم اس کا فکر نہیں کرتیں تو اس کا