انوارالعلوم (جلد 21) — Page 242
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۴۲ با قاعدگی سے نمازیں پڑھنے ، اس کے اثرات پر غور۔۔۔ذکر الہی وغیرہ ہے۔یہ چیزیں انسانیت کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔جب میں کہتا ہوں کہ نماز کی پابندی کی جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم پانچ نمازوں میں سے چار پڑھو یا ہفتہ کی ۳۵ نمازوں میں سے ۳۴ نمازیں پڑھو یا سال بھر کی ۱۸۰۰ نمازوں میں سے ۱۷۹۹ نمازیں پڑھو اس کو پابندی نہیں کہتے۔جب میں کہتا ہوں کہ نماز کی پابندی کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم سال کی ۱۸۰۰ نمازیں پوری کی پوری پڑھو۔جسم فاقہ برداشت کر سکتا ہے لیکن رُوح فاقہ برداشت نہیں کر سکتی۔تین دن کے فاقہ کے بعد بھی تمہارے جسم میں طاقت باقی رہ جائے گی۔بعض لوگ دس دس بارہ بارہ دن فاقے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں لیکن روح ایک لطیف چیز ہے جو ایک فاقہ بھی برداشت نہیں کر سکتی۔اگر سال میں ایک نماز بھی چھوڑ دی جائے تو روح مر جائے گی۔اس وجہ سے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نماز کی قضاء نہیں۔مثلاً ظہر کی نماز کا وقت آ جائے اور تم جان بوجھ کر نہ پڑھو ، بیمار ہو، سو رہے ہو، یا کوئی اور روک پیدا ہو جائے تو اور بات ہے لیکن اگر نماز کا وقت ہو اور تم پالا رادہ نہ پڑھو تو وہ دوبارہ ساری عمر نہیں پڑھی جائے گی۔غرض ایک چھوڑی ہوئی نماز بھی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں ہم اللہ کے فضل سے نماز پڑھتے ہیں ہاں کبھی کبھار کوئی نماز رہ جائے تو رہ جائے حالانکہ کبھی کبھار نما ز کارہ جانا بھی نماز نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی پابندی کی اتنی تاکید کی ہے کہ آپ جیسا رحیم و کریم انسان جو محبت میں چور رہتا تھا ، کہتا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی اور کو امام مقرر کر دوں اور کچھ آدمیوں کے سروں پر لکڑیاں رکھ دوں اور پھر اُن سب لوگوں کے گھروں کو جو عشاء اور فجر کی نمازیں مسجد میں ادا نہیں کرتے مکینوں سمیت جلا دوں کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بے نمازوں کے متعلق نہیں کہی بلکہ ایسے پڑھنے والوں کے متعلق کہی ہے جو قاعدہ کے مطابق مسجدوں میں آ کر نماز ادا نہیں کرتے۔آپ نے ایسا کیا نہیں کیونکہ دین میں جبر جائز نہیں صرف نفرت کے اظہار کے لئے آپ نے ایسا کہا۔ویسے آپ بادشاہ بھی تھے اور اگر ایسا کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے تھے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نے صرف اظہار نفرت فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کے گھروں کو جلا دوں وہ ہمارے شہر میں رہنے کے قابل نہیں۔بچہ