انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 230

انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۳۰ کوشش کرو کہ اُردو ہماری مادری زبان بن جائے ہو جاتے ہیں۔اس کے مضامین کو سمجھنے کے لئے دوسری کتابوں کے حوالوں کی ضرورت پڑتی ہے اور اس طرح ساری چیزیں آ جاتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کے بعد دوسرے علوم کا شوق خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ہمارا سارا علم تو ہے ہی قرآن۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف قرآن کریم ہی پڑھے ہوئے تھے۔لاہور میں میرے پاس ایک دفعہ دو دیو بندی مولوی آئے ان میں سے ایک نے غصہ والی شکل بنا کر مجھ سے پوچھا آپ کیا پڑھے ہوئے ہیں؟ میں نے کہا میں تو کچھ بھی پڑھا ہوا تی نہیں صرف قرآن کریم جانتا ہوں۔اُس نے دوبارہ پوچھا۔آپ بتا ئیں تو سہی آپ کیا پڑھے ہوئے ہیں؟ میں نے کہا آپ کے نزدیک جو پڑھائی ہے وہ میں نے نہیں کی میں صرف قرآن کریم کی کا ترجمہ جانتا ہوں۔اُس نے کہا بس آپ صرف قرآن کریم کا ترجمہ ہی جانتے ہیں؟ میں نے کہا ہاں ترجمہ سے باہر کوئی چیز رہ جاتی ہو تو وہ میں نہیں جانتا۔وہ غصہ میں تھا اور اُس نے میرا جواب نہ سمجھا۔دوسرے مولوی نے اسے چٹکی بھرتے ہوئے کہا وہ کہہ تو رہے ہیں میں قرآن کریم پڑھا ہوا ہوں اور تم یہ ثابت کر کے کہ قرآن کریم سے باہر کوئی چیز ہے اپنی کم علمی اور بیوقوفی کا ثبوت دے رہے ہو۔بہر حال یہ حقیقت ہے کہ قرآن کریم کے اندر سارے علوم آ جاتے ہیں۔میں پرائمری فیل ہوں لیکن میں تمام مذاہب کو چیلنج کر کے کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی ایسا اعتراض ہو جس کا قرآن کریم کے ساتھ ٹکراؤ ہوتا ہو تو میں اس کا جواب دوں گا اور خالی جواب ہی نہیں دوں گا بلکہ اعتراض کی کرنے والے کو چپ کرا کے چھوڑوں گا۔قرآن کریم کے اندر سارے گر موجود ہیں اور اصلی عقل گروں سے ہی آتی ہے۔اگر تم قرآن کریم پڑھ لو تو تمہارے اندر وہ مادہ پیدا ہو جائے گا جس سے تم ہر قسم کے دشمن کا مقابلہ کر سکو گے اور تمہاری عقل اتنی تیز ہو جائے گی کہ دنیا کا کوئی علم ایسا نہیں ہو گا جس سے تم مرعوب ہو۔پس قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے جس کی میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔اس کے بعد میں آپ لوگوں کی خواہش کے مطابق دعا کروں گا۔باقی خدام کو بھی اپنی دعاؤں میں شامل کر لیں بلکہ ساری دنیا کے لوگوں کو اپنی دعاؤں میں شامل کر لیں تا کہ وہ قرآن کریم