انوارالعلوم (جلد 21) — Page 178
انوار العلوم جلد ۲۱ KA قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر بھی تسلیم کر لیا جائے۔میں سرکاری اطلاع بعد میں بھجوا دوں گا اور ساتھ ہی کہا کہ آپ اب اپنے مشنوں کو رجسٹرڈ کروانے کی کوشش کریں۔ہمارے لئے مشنوں کے رجسٹر ڈ کروانے میں بہت سی دقتیں تھیں۔حکومت کی طرف سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ ہم تمہارے مشن کو کیوں تسلیم کریں؟ جب آپ لوگ ہمارے ملک میں دیر سے بس رہے تھے تو کیوں نہ آپ نے اپنے مشن کو رجسٹرڈ کروایا؟ اب انہیں رجسٹرڈ کروانے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے؟ اس بارہ میں بھی خدا تعالیٰ نے غیب سے سامان کیا اور ہمارا مشن ایک نئی جگہ پر کھل گیا۔وہاں حبشیوں کی ایک پارٹی رجسٹرڈ تھی اس میں سے اکثریت احمدی ہو گئی اور اُنہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ ان کے مشن کی کا نام تبدیل کر کے احمد یہ مشن رکھ دیا جائے۔دوسرے مبلغوں نے بھی اس حوالہ سے درخواستیں کی دیں کہ ہماری جماعت فلاں جگہ پر رجسٹرڈ ہے اس جگہ پر بھی اسے رجسٹر ڈ کر لیا جائے۔اب اطلاع آئی ہے کہ ہمارے دو اور مشن بھی رجسٹر ڈ ہو گئے ہیں اب اگر وہاں مبلغ نہیں ہوگا اور جماعت حکومت کے پاس درخواست کرے گی کہ اُنہیں مبلغ منگوانے کی اجازت دی جائے تو حکومت کے قواعد کے مطابق اسے اس طرف توجہ دینی پڑے گی ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت نا انصافی کر رہی ہے۔امریکن نو مسلم یوں بھی ترقی کر رہے ہیں امریکہ کی جماعت کا بجٹ تمیں ہزار روپیہ سالانہ ہے اور جس رنگ میں ترقی کر رہی ہے اس سے میں امید کرتا ہوں کہ وہ جلد ہی لاکھوں تک پہنچ چ جائے گا۔(انْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی ) اور امریکہ کی دولت سے یہ بعید نہیں کہ ان کا بجٹ پاکستان کی جماعت کے بجٹ سے بھی بڑھ جائے۔مثلاً امریکہ میں اگر بیس ہزار احمدی ہو جائیں تو امریکہ میں فی آدمی اوسط آمدن سوا تین سو روپیہ ہے اور فیملی تین آدمی کی ہوتی ہے۔جس کے معنی یہ ہونگے کہ وہاں سات ہزار کمانے والے ہوں گے اور ان کی بیس لاکھ ماہوار سے زیادہ آمد ہوگی۔اگر وہ وصیت کے معیار کے مطابق چندہ دیں تو اُن کا چندہ دولاکھ سے کچھ اوپر ہوتا ہے۔ہمارے ملک کی آمد کا جو اندازہ لگایا گیا ہے اس کے مطابق ہمارے ملک کے ایک فرد کی آمد تین روپے بارہ آنے ہے۔اور اگر تین آدمیوں کی ایک فیملی شمار کر لی جائے تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ایک فرد کے حصہ میں صرف سوا روپیہ آتا ہے۔لیکن امریکہ میں ایک خاندان ( یعنی اوسط