انوارالعلوم (جلد 21) — Page 177
انوار العلوم جلد ۲۱ 122 قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر والے انہیں افریقہ سے اپنی خدمت کے لئے پکڑ لائے تھے لیکن ایک زمانہ آیا جب امریکنوں نے خود کہا کہ وہ انہیں غلام رکھنا پسند نہیں کرتے۔امریکنوں کا ایک حصہ اس بات کے حق میں تھا کہ انہیں غلام نہیں رکھنا چاہیے۔لیکن دوسرے فریق نے انہیں غلام رکھنے پر اصرار کیا۔دونوں میں لڑائیاں ہوئیں اور وہ فریق جیت گیا جو اس بات کے حق میں تھا کہ سیاہ فام لوگوں کو غلام نہیں رکھنا چاہیے۔اب یہ لوگ وہیں رہتے ہیں ان میں سے کچھ لوگ لیبیا میں بسائے گئے تھے اور باقی وہیں آباد ہو گئے ان کی تعداد اس وقت دو کروڑ ہے۔اس وقت تک اسلام کلی طور پر انہیں لوگوں میں پھیل رہا تھا لیکن اب سفید فام لوگوں میں بھی ہماری تبلیغ شروع ہوگئی ہے اور پچھلے کی دنوں دو امریکن احمدیت میں داخل ہوئے ہیں اور مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ ایک امریکن نے کی اسلام کی خدمت کیلئے اپنی زندگی بھی وقف کر دی ہے۔انہوں نے لکھا ہے کہ میرے وقف زندگی کو قبول کیا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ وہ پاکستان آکر دینی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں کہ اور اس کے بعد اپنے ملک میں واپس جا کر تبلیغ کریں گے۔ان کے اخلاص کا یہ حال ہے کہ امریکہ کے انچارج مبلغ خلیل احمد صاحب ناصر نے اطلاع دی ہے کہ یہ دوست سو اسولہ فیصدی کے حساب سے چندہ دے رہے ہیں اور روپیہ بھی جمع کر رہے ہیں تا کہ وہ اپنے خرچ پر پاکستان آئیں اور دینی تعلیم حاصل کریں۔“ (الفضل ۱۳ / جولائی ۱۹۶۱ء صفحہ ۴ کالم ۲ ) 66 اسی طرح یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ امریکہ میں ہمارا مشن رجسٹرڈ کروالیا گیا ہے جب تک مشن رجسٹر ڈ نہ ہو امریکہ میں اُسے باقاعدہ طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔یہی وجہ تھی کہ ہمارے مبلغوں کو بار بارتنگ کیا جاتا تھا اور حکومت اُنہیں مشنری تسلیم نہیں کرتی تھی۔جب ہم کسی مبلغ کے بھیجنے کے متعلق کوشش کرتے تو اس میں رکاوٹیں ڈالی جاتیں۔پاکستان کے امریکن سفارت خانے کو ہم نے کہا کہ تمہارے مشنری جب ہمارے ملکوں میں پھیلے ہوئے ہیں تو ہم اپنا مبلغ آپ کے ملک میں کیوں نہیں بھیج سکتے یہ تو بے انصافی ہے۔چنانچہ امریکہ کے قونصل نے جو ایک شریف آدمی ہیں ہماری دلیل کی قوت کو تسلیم کیا اور اُنہوں نے خود مجھے لکھا کہ یہ آپ سے بے انصافی ہو رہی ہے۔چنانچہ ایک پارٹی کے موقع پر وہ مجھے ملے اور اُنہوں نے خوشخبری سنائی کہ اُن کی کوشش سے امریکہ سے یہ اطلاع آ گئی ہے کہ حکومت نے یہ منظور کر لیا ہے کہ احمدی مشنریوں کو