انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 176

انوار العلوم جلد ۲۱ 127 قادیان سے ہجرت اور نئے مرکز کی تعمیر جرمن ہیں بلکہ ہر دیکھنے والا یہ سمجھے گا کہ وہ کوئی مولوی ہیں۔انہوں نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور بظاہر وہ جرمن معلوم نہیں ہوتے۔ہالینڈ کے ایک دوست بھی اپنی زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں اور اُن سے خط و کتابت ہو رہی ہے۔اسی طرح جرمن کے بعض اور دوست بھی اس فکر میں ہیں 66 کہ وہ اپنی زندگیاں اسلام کی خدمت کے لئے وقف کریں۔“ ( الفضل ۱۳ / جولائی ۱۹۶۱ ء ) ایران میں ہمارے مبلغ تین سال سے بیٹھے تھے اور اب تک اُنہیں کوئی کامیابی نہیں ہوئی تھی۔آہستہ آہستہ وہاں تبلیغ ہوتی رہی۔وہاں کے مشنری نے خواب میں دیکھا کہ ایران کے جنوبی علاقہ میں خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہوگا اور جماعت احمدیہ کو ترقی ہوگی۔اس کے بعد اُنہوں نے ایک علاقہ میں جس کے متعلق انہیں خیال تھا کہ وہ خواب میں دکھایا گیا ہے لٹریچر بھیجنا شروع کیا۔بعض لوگ اُن سے ملنے کے لئے بھی آئے۔اُن کے بڑے امام کو بھی کتابیں بھیجی گئیں۔ایک دو ماہ کے بعد اُس نے اُنہیں لکھا کہ وفات مسیح کا مسئلہ ثابت ہو گیا ہے اب آپ نبوت کے متعلق میری تسلی کرا دیں۔چنانچہ خط و کتابت ہوتی رہی۔ڈیڑھ مہینہ ہوا کہ وہ دوست احمدی ہو چکے ہیں۔اور نہ صرف وہ اکیلے احمدی ہوئے ہیں بلکہ اُن کے مریدوں میں سے اور بھی کئی آدمی احمدیت قبول کر چکے ہیں۔اب اطلاع ملی ہے کہ اُس علاقہ میں جو تین ہزار ستنی رہتے ہیں اُن میں سے اکثریت خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی ہو چکی ہے اور باقی بھی قریب زمانہ میں اِنشَاءَ الله احمدی ہو جائیں گے۔یہ لوگ ہیں تو غریب لیکن بہت جفاکش ہیں۔ان کی کا حکومت کے ساتھ عموماً جھگڑا ہوتا رہتا ہے اور یہ اختلاف بعض اوقات لڑائیوں تک جا پہنچتا چ ہے۔ان لوگوں نے ایرانیوں کو نکال دیا تھا اور خود آزاد ہو گئے تھے لیکن اب پھر یہ ایرانی حکومت کے ماتحت ہیں۔لیکن ایرانی ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ پھر سر نہ اُٹھائیں۔یہ علاقہ بھی فارس کا ہے جس کے متعلق احادیث میں پیشگوئیاں ہیں کہ جب اسلام کمزور ہو جائے گا اور اُسے ضعف پہنچے گا تو خدا تعالیٰ بنو فارس میں سے ایک شخص کو کھڑا کرے گا جو دوبارہ مسلمانوں کی تنظیم کرے گا اور اسلام کو اپنی بنیادوں پر قائم کرے گا۔“ ( غیر مطبوعہ از ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ ) امریکہ میں ۱۹۲۶ء سے تبلیغ ہو رہی ہے اس وقت تک تبلیغ سیاہ فام لوگوں میں ہی ہوتی ہی رہی ہے۔امریکہ میں دو کروڑ کے قریب سیاہ فام لوگ بستے ہیں۔پرانے زمانہ میں امریکہ