انوارالعلوم (جلد 21) — Page 160
انوار العلوم جلد ۲۱ 17۔آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی شدید جذبات مقابل میں ویسے ہی جذبات پیدا کر دیا کرتے ہیں۔جب اُس نے یہ بات ی کہی تو کئی بزدل جو اپنے آپ کو پہلے بچا رہے تھے، انہوں نے بھی اپنے ارادوں کو پیش کرنا شروع کر دیا اور جب یہ اطلاع میرے پاس پہنچی اور خط میں میں نے یہ واقعہ پڑھا تو پیشتر اس کے کہ میں اس خط کو بند کرتا میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہا۔اے میرے رب ! یہ بیوہ عورت اپنے اکلوتے بیٹے کو تیرے دین کی خدمت کے لئے یا مسلمانوں کے ملک کی حفاظت کے لئے پیش کر رہی ہے۔اے میرے رب ! اس بیوہ عورت سے زیادہ قربانی کرنا میرا فرض ہے۔میں بھی تجھ کو تیرے جلال کا واسطہ دے کر تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ اگر انسانی قربانی کی ہی ضرورت ہو تو اے میرے ربّ! اس کا بیٹا نہیں بلکہ میرا بیٹا مارا جائے۔اسی طرح ایک جگہ ہمارے آدمی گئے تو ایک اور عورت کہ وہ بھی زمیندار طبقہ میں سے نہیں تھی بلکہ ان لوگوں میں سے تھی جنہیں زمیندار حقارت کے ساتھ کمیں کہا کرتے ہیں اُس نے مج بھی اپنی قربانی کا نہایت شاندار نمونہ دکھایا۔اُس کے دو بیٹے اور دو پوتے تھے ، جب ہمارے آدمی گئے اور اُنہوں نے بتایا کہ پاکستان کی حفاظت کے لئے فوج میں بھرتی ہونا چاہیے تم بھی اپنی اولاد میں سے کسی کو پیش کرو تا کہ اسے فوج میں بھجوایا جائے تو اُس وقت باہر کھڑی کام کر رہی تھی۔اُس نے وہیں سے کھڑے کھڑے اپنے چاروں لڑکوں اور پوتوں کو آواز دی اور ہمارے مبلغ سے کہا یہ میرے دولڑ کے اور دو پوتے ہیں ان چاروں کو اپنے ساتھ لے جاؤ۔پھر اُس نے اپنے لڑکوں اور پوتوں سے کہا۔دیکھو! میں گھر میں نہیں گھوں گی جب تک تم یہاں سے چلے نہ جاؤ۔جب ہمارے آدمی نے کہا کہ اس وقت چاروں کی ضرورت نہیں بلکہ صرف ایک نوجوان چاہیے۔تو اُس نے کہا میں تو چاروں بھجوانے کیلئے تیار ہوں۔آخر اصرار کر کے اُس نے کہا۔دو تو لے جاؤ۔چنانچہ ایک کی بجائے اُس نے دو نو جوان پیش کئے اور وہ خوشی خوشی چلے گئے۔یہ وہ روح تھی جو حقیقی روح ہوتی ہے اور جس کے ذریعہ سے دنیا میں قو میں بڑھا کرتی ہیں۔وہ دن گئے جب انگریز اس ملک کے حاکم تھے اُس وقت جب کوئی حملہ کرتا تو ہم انگریزوں سے کہہ سکتے تھے کہ تم جاؤ اور مقابلہ کرو کیونکہ یہ تمہارا ملک ہے اور ہمارا نہیں مگر اب