انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 153

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۳ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی وَكُلُّ نَعِيمٍ لَا مَحَالَةَ زَائِلُ یعنی ہر نعمت ایک دن ضرور زائل ہونے والی ہے۔جب اُنہوں نے کہا وَكُلُّ نَعِيمِ لَا مَحَالَةَ زَائِل تو حضرت عثمان جوش میں آگئے اور اُنہوں نے کہا۔جھوٹ ، جھوٹ ، بالکل غلط۔جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہوں گی۔بھلا جو شخص ایک مصرع کو اچھا کہنے اور اُس کی تعریف کرنے پر چڑ گیا تھا وہ مذمت کی کب تاب لا سکتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ لبید خاموش ہو گئے اور اُنہوں نے کہا میں آئندہ مکہ میں کوئی شعر نہیں سناؤں گا یہاں کے لوگ سخت بد تہذیب ہو گئے ہیں۔تب غصہ اور جوش کی حالت میں ایک شخص آگے بڑھا اور اُس نے اِس زور سے عثمان کے منہ پر گھونسای مارا کہ اُس کی انگلی آپ کی ایک آنکھ میں گھس گئی اور آنکھ پھوٹ گئی۔وہ رئیس جس نے حضرت عثمان کو پناہ دی تھی ، وہ بھی اُس وقت وہاں موجود تھا مگر وہ اپنی قوم کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔اکیلے آدمی کی کیا طاقت ہوتی ہے کہ وہ ساری قوم کے مقابلہ میں کھڑا ہو سکے۔مگر یہ نظارہ دیکھ کر اُس کی کا دل غم سے بھر گیا اور اُس کی آنکھوں کے سامنے یہ نقشہ آ گیا کہ کس طرح عثمان کا باپ جو مکہ کے رؤساء میں سے تھا جب شہر میں نکلتا تو لوگ اُس کا ادب اور احترام کرتے اور اُس کی راہ می میں اپنی آنکھیں بچھاتے تھے مگر آج یہ حالت ہے کہ اُس کے بیٹے کو اس بے دردی کے ساتھ پیٹا گیا ہے کہ اُس کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی ہے۔ان تصورات کی وجہ سے ایک طرف اُس کا دل غم سے بھر گیا مگر دوسری طرف اُس کا دل خائف تھا کہ میں اپنی قوم کے خلاف کس طرح آواز بلند کروں۔وہ اسی کشمکش کی حالت میں عثمان کے پاس جا کر غصہ سے کہنے لگا تو نے دیکھا کہ میری پناہ سے نکلنے کا کیا انجام ہوا؟ میں نہیں کہتا تھا کہ میری پناہ میں ہی رہو! تم نے مجھے مجبور کیا اور کہا تج کہ میں تمہاری پناہ میں رہنے کے لئے تیار نہیں اور میں نے اپنی پناہ واپس لے لی مگر اس کا کیا تی نکلا؟ آج تمہاری آنکھ ضائع ہو گئی ہے۔اگر خدانخواستہ تم میں سی کسی کی آنکھ نکل جائے یا تمہاری آنکھ پر چوٹ ہی آ جائے تو تم سمجھ سکتی ہو کہ تم کتنا روؤ اور کتنا چیخو اور چلاؤ مگر عثمان اس کے تکلیف پر روئے نہیں ، وہ چلائے نہیں ، انہوں نے افسوس ظاہر نہیں کیا ، انہوں نے ہمدردی کرنے والے سے یہ نہیں کہا کہ آپ کا شکر یہ بلکہ عثمان نے کہا تو یہ کہا کہ چا ! تم تو یہ کہتے ہو کہ تیری ایک آنکھ کیوں نکلی؟ خدا کی قسم! میری تو دوسری آنکھ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلنے کے لئے تیار بیٹھی