انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 45

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۵ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء مضبوط کر نے والی نہیں بلکہ اس کے خارجی تعلقات کو بھی مضبوط کر نے والی ہیں اگر مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے کٹ جائے تو مغربی پاکستان کا قیام نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔بے شک مغربی پاکستان میں بھی زرعی اشیاء اور قیمتی دھاتیں پائی جاتی ہیں مگر اُس کی آبادی اتنی تھوڑی ہے کہ وہ بڑی آبادی والے ملکوں کے مقابلہ میں جیت نہیں سکتا۔پھر اس زمانہ میں جب کہ جمہوریت قائم ہو چکی ہے اور لڑائی صرف بادشا ہوں اور سپاہیوں کی ہی نہیں ہوتی بلکہ ملک کے ہر فر دکولڑائی میں حصہ لینا پڑتا ہے کسی ملک کی آبادی کا کم ہونا اس کے لئے نہایت مضر ہے۔چنانچہ نئے تغیرات کے بعد آبادی کی زیادتی کی قیمت بجائے اس کے کہ وہ کم کی ہوتی پہلے سے بڑھ گئی ہے۔پرانے زمانے میں چھوٹے چھوٹے مُلک اُٹھتے تھے اور بڑے بڑے ممالک پر فتح حاصل کر لیتے تھے کیونکہ اُس وقت صرف بادشاہوں اور سپاہیوں کی لڑائی کی ہوتی تھی ملک کے ہر فرد کولڑائی میں حصہ نہیں لینا پڑتا تھا کسی ملک کی فوج کا تعداد میں زیادہ ہونا اور مضبوط ہونا ہی اُس کی فتح کے لئے کافی ہوتا تھا۔یونان کی آبادی کتنی تھوڑی تھی۔دس بارہ لاکھ سے زیادہ نہ تھی لیکن وہاں سے سکندر نکلا اور اس نے عرب اور مصر اور عراق اور ایران اور افغانستان وغیرہ ممالک کو فتح کر لیا اور اس کے بعد ہندوستان کو بھی فتح کر لیا۔غرض ایک دس بارہ لاکھ کی آبادی والے مُلک نے کروڑوں کروڑ کی آبادی والے ملکوں کو فتح کر لیا۔اسی طرح مغل نکلے۔مغلوں کی دو قو میں تھیں۔برلاس اور چغتائی۔پہلے چغتائی نکلے اور اُنہوں نے ایک طرف جہاں یورپ کو فتح کر لیا وہاں دوسری طرف وہ چین کے انتہائی کناروں تک پہنچ گئے اور جاپان پر بھی قابض ہو گئے حالانکہ ان کی اپنی آبادی صرف دو تین لاکھ تھی۔پھر بر لاس نکلے اُن کی آبادی بھی دو تین لاکھ سے زیادہ نہ تھی مگر اُنہوں نے کروڑوں کروڑ کی آبادی رکھنے والے ممالک کو فتح کر لیا۔اس کی وجہ کیا تھی؟ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اُس زمانہ میں صرف بادشاہ لڑتے تھے اُن کی رعایا نہیں لڑتی تھی۔بادشاہ جتنی فوج رکھتا تھا اگر وہ شکست کھا جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ملک شکست کھا گیا اور اگر فوج جیت جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ ملک فتح پا گیا۔مثلاً ہندوستان کے بادشاہ کے پاس پچاس ہزار کی فوج ہے اگر کوئی دوسرا قبیلہ اُٹھتا ہے اور اس کی فوج پچاس ہزار ہے یا کچھ زیادہ ہے تو پُرانے زمانہ کے دستور کے مطابق وہ