انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 616

انوار العلوم جلد ۲۱ ٦١٦ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ وقت زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو وطن سے باہر نکال دے گی اگر اُس وقت میں زندہ ہوا و انْصُرُكَ نَصْرًا مُؤَزَرا میں کمر باندھ کر آپ کی مدد کروں گا ۔ مکہ کے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بڑی عزت سے پیش آتے تھے اس لئے آپ حیران ہو گئے اور فرمایا۔ اوَمُخْرِجِی هم کیا وہ مجھے باہر نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا ہاں کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ یہ فرشتہ کسی پر آیا ہو اور اُس کی قوم نے اُسے باہر نہ نکال دیا ہو ۔ کے آخر ایسا ہی ہوا یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے پہلے ایمان لانے والی اور آپ کو حوصلہ دلانے والی عورت ہی تھی اور پھر حضرت خدیجہ نے ۱۳ سال تک آپ کی ۔ تک آپ کی تکالیف میں آپ کا پ کا ساتھ دیا اور کسی وقت بھی ڈگمگائیں نہیں ۔ پھر آپ کی تمام بیویوں کے حالات کو اسلام اسلام میں بیان کرنے کی وجہ آخر کیا ہے؟ اِس کی وجہ یہی ہے کہ دنیا میں عورت اور مرد دونوں مل کر کام کرتے ہیں ۔ دنیا میں کوئی نئی بنیا د قائم نہیں ہوتی جس میں عورت اور مرد دونوں شامل نہ ہوں ۔ جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے عورت اور مرد کو اس لئے بنایا ہے کہ تا دنیا آباد ہو ۔ گویا جب تک عورت اور مرد دونوں کو نہ بنایا جا تا دنیا آباد نہیں ہو سکتی تھی ۔ یہی حال روحانی دنیا کا ہے۔ روحانی دنیا بھی اُس وقت تک آباد نہیں ہوتی جب تک عورت اور مرد دونوں مل کر کام نہ کریں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی وجہ سے عورتوں کو دین کی تعلیم میں شامل رکھتے تھے ۔ آپ جب وعظ فرماتے تھے تو عورتوں کو اِس میں شامل ہونے کے لئے حکم فرماتے تھے ۔ مثلاً عید ہے۔ عید کا خطبہ سننے کیلئے آپ عورتوں کو بھی دعوت دیتے تھے۔ آپ کی یہ ہدایت تھی کہ خواہ عورتوں کو اپنا کام چھوڑ کر ہی خطبہ میں شامل ہونا پڑے اُنہیں شامل ہونا چاہئے ۔ اے پھر عورتوں نے کہا کہ ہم کام کاج میں لگی رہتی ہیں اس لئے ہم با قاعدہ طور پر وعظوں اور خطبات میں شامل نہیں ہو سکتیں آپ کوئی نہ کوئی وقت عورتوں کے لئے مخصوص فرما دیں۔ اس پر آپ نے ہفتہ میں سے ایک دن عورتوں کے لئے مخصوص کر دیا ۔ عورتیں مردوں کے جلسوں میں بھی شامل ہوتی تھیں اور اس مخصوص دن بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نصائح سے مستفید ہوا کرتی تھیں ۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو کتنی اہمیت دی ہے چنانچہ