انوارالعلوم (جلد 21) — Page 615
انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۵ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔اپنی جگہ پر تھوما کو تیرا بیٹا بنا تا ہوں۔اس میں یہ اشارہ تھا کہ صلیب پر مرنے یا ہمارے عقیدہ کے مطابق صلیب کے بعد کی زندگی میں جو تکالیف تمہیں پہنچنی ہیں ان میں میرا یہ مخلص مرید تمہاری ایسی خدمت کرے گا جیسے میں۔اس لئے آئندہ کے لئے تم اسے اپنا بیٹا بنالو۔گویا شروع سے ہی یہ سلسلہ چلا آیا ہے کہ عورتیں عظیم الشان کام سرانجام دیتی رہی ہیں۔کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا کی جس میں عورت نے قربانی میں مرد کا ساتھ نہ دیا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ آیا۔آپ غار حرا میں عبادت کر رہے تھے کہ الہام ہوا۔اقرا با شوربكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الانْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَا وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے۔جب آپ گھر تشریف لائے تو آپ کانپ رہے تھے۔آپ نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے فرما یا ملُونِي ، زَمِّلُونِی۔مجھے کپڑا اوڑھا دو۔مجھے کپڑا اوڑھا دو۔چنانچہ آپ کو کپڑا اوڑھا دیا گیا۔گھبراہٹ ذرا کم ہوئی تو حضرت خدیجہ نے دریافت فرمایا کہ آپ کو کیا ہو گیا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس اس طرح غار حرا میں عبادت کر رہا تھا کہ ایک فرشتہ آیا اور اُس نے مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا ہے کہ جاؤ اور میرا پیغام دنیا کو پہنچاؤ۔میں ڈرتا ہوں کہ نہ معلوم میں اِس کام کو کر سکوں گا یا چھ نہیں۔حضرت خدیجہ نے فرمایا كَلَّا وَ اللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا مجھے خدا کی قسم ہے خدا تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔پھر آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے کہا آپ صلہ رحمی کرتے ہیں ، کمزوروں کے بوجھ اُٹھاتے ہیں ناداروں کو کما کر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حادثات میں حق کی مدد کرتے ہیں۔اس زمانہ میں یہی شاندار اخلاق شمار ہوتے تھے۔حضرت خدیجہ نے فرمایا۔ان اخلاق کے ہوتے ہوئے خدا تعالیٰ آپ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔پھر فرمایا۔میرا ایک بھائی ہے وہ عیسائی ہے اور بڑا عالم ہے اُس سے اس بارہ میں ہدایت طلب کرتی ہوں۔آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں۔اُس نے بتایا کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو حضرت موسی علیہ السلام کے پاس آیا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیز کا خوف تھا ورقہ نے اُس کی تصدیق کی اور کہا یہ فرشتہ کسی پر کبھی نہیں آتا مگر اُسے سخت تکالیف پہنچتی ہیں۔ورقہ نے کہا۔کاش! میں اُس