انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 614

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۱۴ قرون اولی کی نامور خواتین اور صحابیات کے ایمان افروز۔۔عورتوں نے بھی بڑے بڑے کام کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ سے بھی اُس نے کام لیا۔اُنہیں الہام ہوا کہ اُن کے ہاں ایک بچہ ہوگا ، کی فرعون دشمن ہے وہ اُسے مارنے کا ارادہ کرے گا اس لئے جب وہ پیدا ہوا سے ٹوکرے میں ڈال کر دریا میں ڈال دینا۔۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے ایسا ہی کیا۔اب یہ کام ہر ماں نہیں کر سکتی۔ایک کروڑ میں سے ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو نناوے عورتیں ایسی جرات کی نہیں کر سکتیں یا شاید کئی نسلوں میں بھی کوئی ایک عورت ایسی پیدا نہ ہو کہ جسے اس قسم کا خواب آئے اور وہ اس خواب کی بناء پر اپنے بیٹے کو دریا میں ڈال دے لیکن حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ نے ایسا کیا۔پھر حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں فرعون کی بیوی کا ذکر آتا ہے باوجود اس کے کہ فرعون شدید دشمن تھا وہ ایمان رکھنے والی تھی اور ہمیشہ دعائیں کرتی رہتی تھی کہ اے اللہ ! تو شرک کی ظلمت کو دور کر دے اور سچائی کو دنیا میں قائم کر۔کے پھر حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ نے بھی بڑی قربانی کی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں اور عیسائیوں نے بعض غلط باتیں اُن کی طرف منسوب کر دی ہیں مگر انہیں جانے دو۔مجھے ایک بات نظر آتی ہے جس سے ان کا وسعت حوصلہ معلوم ہوتا ہے۔جب حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کا حکم ہوا۔بہت کم مائیں ہونگی جو اس قسم کے نظارہ کو دیکھ سکتی ہوں۔بائبل میں آتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو جب صلیب پر لٹکایا گیا اُس وقت حضرت مریم موجود تھیں۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر ایسے وقت مائیں بھاگ جایا کرتی ہیں اور وہ اپنے چھ بچوں کی تکلیف کو برداشت نہیں کر سکتیں لیکن حضرت مسیح کی والدہ اُس وقت موجود تھیں۔جب حضرت مسیح علیہ السلام نے دیکھا کہ اُن کی ماں اس طرح اپنے دل کو حوصلہ دے کر کھڑی ہے کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم یہی ہے اور مجھے وہ منظور ہے تو وہاں آپ کا ایک شاگردتھو ما نامی کھڑا تھا حضرت مسیح علیہ السلام نے صلیب پر لٹکے ہوئے دردوکرب کی حالت میں تھوما کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔اسے تھو ما ! یہ تیری ماں ہے۔اور حضرت مریم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اے عورت! یہ تیرا بیٹا ہے۔ماں کا لفظ نہیں بولا تا رقت پیدا نہ ہو۔اس کا مطلب یہ تھا کہ میں