انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 604

انوار العلوم جلد ۲۱ ۶۰۴ کوشش کرو کہ تمہاری اگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو طے پا گیا تو میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔اِس لئے اُس نے جھٹ قرامطہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا اور یہ تجویز ہوئی کہ دونوں مل کر مقابلہ کریں گے۔قرامطہ کے امام اور فلپ کے درمیان ملاقات کا وقت مقرر ہوا اور یہ ملاقات پہاڑی پر ایک قلعہ میں طے پائی۔قرامطیوں کا امام وہاں آیا اور فلپ بھی چوری چھپے وہاں گیا۔فلپ نے قرامطہ کے امام سے کہا کہ ہر بادشاہ جب دوسرے کے پاس کوئی معاہدہ طے کرنے جاتا ہے تو وہ دوسرے سے کہتا ہے آیا اُس کے پاس ایسی کوئی چیز بھی موجود ہے جسے وہ پیش کر سکتا ہے؟ تم جانتے ہو میں تو کی ایک ملک کا بادشاہ ہوں اب تم بتاؤ کہ تمہارے پاس مجھے دینے کیلئے کیا کچھ ہے؟ جس مکان میں کی ملاقات ہو رہی تھی وہ ایک چھ منزلہ مکان تھا۔جس کی ہر منزل کے سامنے چھجے تھے اور ہر چھجے کے کناروں پر کھڑکیاں تھیں، ہر کھڑکی کے سامنے ایک ایک سپاہی کھڑا تھا۔قرامطہ کے امام نے کہا اچھا میں بتاؤں کہ میرے پاس تمہیں دینے کو کیا کچھ ہے؟ اُس نے سر ہلایا۔اُس کے سر ہلانے کی دیر تھی کہ نچلی منزل کے تین آدمیوں نے یکدم نیچے چھلانگ لگا دی اور وہ چُور چُور ہو گئے۔پھر قرامطہ کے امام نے کہا فلپ شاید تم یہ خیال کرو کہ انہیں اپنے انجام کا پتہ نہیں تھا یا تی انہیں خیال ہو کہ وہ مریں گے نہیں اس لئے اب میں تمہیں پھر وہی نظارہ دکھاتا ہوں۔اس نے پھر اپنا سر ہلایا اور اُس کے سر ہلانے پر دوسری منزل کے تین آدمیوں نے بھی یکدم چھلانگیں لگا دیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔فلپ پر لرزہ طاری ہو گیا اور وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اپنی بات کسی اور وقت پر ملتوی کر دی اور وہاں سے چلا گیا۔اب دیکھو ان کے اندر نور نہیں تھا ایک جھوٹا عشق تھا مگر پھر بھی انہوں نے موت کی پرواہ نہ کی۔ولیم میور لکھتا ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر کفار سات آٹھ ہزار کی تعداد میں تھے اور مسلمان صرف پندرہ سو تھے۔میرے نزدیک دشمن کی تعداد پندرہ ہزار تھی اور مسلمان سات سو تھے اور تاریخ بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔گویا دشمن ہیں گنے سے بھی زیادہ تھا لیکن اگر میور کی تعداد کو بھی مد نظر رکھ دیا جائے تب بھی کفار مسلمانوں سے چار پانچ گنا زیادہ تھے۔میورلکھتا ہے کفار مسلمانوں پر دن رات حملے کرتے تھے اور حملے باری بدل بدل کر کرتے تھے تا کہ مسلمان تھک جائیں۔ان کا ایک گروہ تھک جاتا تھا تو دوسرا آ جاتا تھا لیکن مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی