انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 605

انوار العلوم جلد ۲۱ کوشش کرو کہ تمہاری اگلی نسل پچھلی نسل سے زیادہ اچھی ہو کہ وہ انہیں مختلف حصوں میں تقسیم نہیں کر سکتے تھے اس لئے ان کیلئے آرام کرنا مشکل تھا۔لیکن پندرہ دن کی متواتر جنگ میں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کس طرح بچ گئے۔پھر وہ خود ہی جواب دیتا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی محبت تھی کہ وہ اس کے مقابلہ میں کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔وہ لکھتا ہے کہ جب میں تاریخ پڑھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ پندرہ سو آدمیوں نے سات آٹھ ہزار کے لشکر جرار کا کس طرح مقابلہ کیا۔جب مسلمان تھک جاتے تھے تو کفار خندق کو دکر اندر آ جاتے تھے۔اور جب دشمن پھاند کر اندر آ جاتا تھا تو مسلمان دبتے چلے جاتے تھے اور دشمن زور پکڑتا جاتا تھا۔لیکن جونہی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے پاس جاتے ( یہ خیمہ مدینہ کے درمیان تھا تو وہ بے تاب ہو جاتے اور انسانوں کی شکلوں میں دیو معلوم ہوتے تھے اور دشمن کو دھکیلتے ہوئے پیچھے لے جاتے تھے۔یہ جوش صرف اُس عشق کا نتیجہ تھا جو صحابہ کے دلوں میں پایا جاتا تھا۔پس مومن کو چاہئے وہ ہر قربانی پیش کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہے۔خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ یہ روح اپنے اندر پیدا کریں، وہ اپنے اندر احساس پیدا کریں کہ ضرورت پڑنے پر خدا کیلئے اپنی جان پیش کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہیں گے۔اگر تم اس کیلئے تیار ہو تو یقیناً تمہارے اندر وہ بشاشت ایمانی پیدا ہو جائے گی جس کے بغیر کوئی شخص نجات حاصل نہیں کر سکتا۔الفضل کا راکتو بر ۱۹۶ ء ) ل قل ان كان للرحمن ولد فانا اوّل العبدين (الزخرف:۸۲) ترمذی ابواب العلم باب ماجاء في فضل الغقه على العبادة میں الفاظ یہ ہیں۔الْكَلِمَةُ الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِن فَحَيْثُ وَجَدَهَا فَهُوَاَحَقُّ بِهَا