انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 566

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۶۶ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام جائے۔صرف خلیفہ امسیح الاوّل ایک ایسے شخص تھے جن کا خیال تھا کہ ہائی سکول توڑنا نہیں چاہئے ہائی سکول بھی قائم رہے اور دینیات کی تعلیم بھی دی جائے اور میرا خیال بھی یہی تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی عادت تھی کہ آپ اپنی بات کا زیادہ پر و پیگنڈا نہیں کرتے تھے ہاں ملنے جلنے والوں سے باتیں کر لیتے تھے لیکن یہ نہیں ہوتا تھا کہ عام لوگوں میں جا کر کوئی لیکچر دیں۔آپ نے ایک مضمون لکھا تا وہ حضرت مسیح موعوڈ تک پہنچ جائے اور آپ کے خیالات کا حضور کو علم ہو جائے۔آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا میاں ! سنا ہے کیا باتیں ہورہی ہیں ؟ تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا میں تو اس کا قائل نہیں۔آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایک سے دو ہو گئے میں ساری رات سویا نہیں میرے دل میں ایک بوجھ سا تھا کہ کوئی میرا ہم خیال نہیں کی اب تمہاری بات سے یہ خیال معلوم ہوا تو میں نے کہا الحَمْدُ للهِ میں ایک نہیں رہا بلکہ دو شخص ایسے موجود ہیں جو ہم خیال ہیں۔میں نے ایک مضمون لکھا ہے یہ چیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس لے جاؤ۔میں وہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس لے گیا۔چنانچہ ایک جلسہ ہوا اور عام طور پر لوگوں نے یہی کہا کہ ہائی سکول کو جاری رکھنا فضول ہے۔آخر دنیا میں اور ہائی سکول بھی موجود ہیں ہمارے بچے وہاں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔بعض افراد ایسے بھی تھے جنہوں نے یہاں تک کہا کہ ہمیں دینیات کی بھی کیا ضرورت ہے چنانچہ کوئٹہ کے تحصیلدار نذیر احمد صاحب نے یہی بات کہی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی تائید کی کہ ہائی سکول بھی قائم رکھا جائے۔آپ نے فرمایا میرا یہ منشا ہر گز نہیں تھا کہ ہائی سکول کو توڑ دیا ہے جائے اور دینیات کلاس کھولی جائے۔پھر مدرسہ احمدیہ قائم ہوا ۱۹۰۶ ء یا ۱۹۰۷ ء کی بات ہے۔گویا مدرسہ احمدیہ کی بنیاد بھی نہایت چھوٹے پیمانہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود رکھی۔اس کے سال دو سال بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے۔آپ کے فوت ہوجانے کے بعد وہی لوگ جنہوں نے یہ تجویز کی تھی کہ ہائی سکول تو ڑ کر دینی کلاس کھولی جائے ،انہوں نے یہ تجویز کیا کہ مدرسہ احمدیہ تو ڑ دیا جائے اور ہائی سکول کو قائم رکھا جائے اور لڑکوں کو وظیفے دے کر کالج کی تعلیم حاصل کرائی جائے۔اب کی دفعہ یہ مدنظر رکھا گیا کہ یہ تجویز نا کام نہ ہو اور مجلس شوری کے قائم ہونے سے پہلے جماعتوں میں دورے