انوارالعلوم (جلد 21) — Page 565
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۶۵ تعلیم الاسلام ہائی سکول ! تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام۔نسلو! آفات اور مصائب سے گھبرانا نہیں۔تمہیں کم از کم اتنا عزم تو دکھانا چاہئے جتنا شہد کی مکھیاں دکھاتی ہیں۔اسی طرح ہم اس مثال سے فائدہ اُٹھا سکتے تھے اور فائدہ اُٹھاتے ہیں اور یہ مثال پیش کر کے نو جوانوں کی ہمتوں کو بلند کر سکتے تھے اور بلند کرتے ہیں لیکن جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کا منشاء کبھی اس سے بڑے معجزے بھی دکھا سکتا ہے تو ہمارا سر خدا تعالیٰ کے سامنے اور زیادہ شکر گزاری کے ساتھ جھک جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہی سکول جواب تعلیم الاسلام ہائی سکول کہلاتا ہے قائم ہوا۔یہ سکول اُس وقت قائم ہوا تھا جب میں ابھی ۹ ۱۰ سال کا تھا۔ہمارے بعض لڑکے آریہ سکول میں پڑھا کرتے تھے جو اُس وقت قائم ہو چکا تھا اور ابھی مڈل تک تھا اور بعض لڑکے گورنمنٹ پرائمری سکول میں پڑھتے تھے جس کا ہیڈ ماسٹر اتفاقی طور پر آریہ تھا اور وہ ہر وقت بچوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرتا رہتا تھا جس کی وجہ سے طلباء اپنے اپنے گھر جا کر اسی قسم کی باتیں کرتے تھے۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اب ہمارے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ ایک سکول کھولا جائے۔چنانچہ ایک پرائمری سکول قائم کیا گیا جو اُسی سال مڈل تک ہو گیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہائی سکول بن گیا۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی یہ سکول قائم ہو گیا تھا۔پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مخالفین نے جماعت پر شدت سے حملے کرنے شروع کر دئیے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا اب ہمیں ان کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی جد و جہد کرنی چاہئے اور آپ نے ایک مجلس شوری بلائی تا جماعت مشورہ دے کہ اس وقت کے مقابلہ میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔اُس وقت مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدینی صاحب مرحوم بھی آئے ہوئے تھے اُنہوں نے سمجھا کہ ایسا نہ ہو کہ کوئی ایسی تحریک کر دی جائے جو ہماری کسی سکیم کے خلاف ہو۔مناسب یہی ہے کہ ہم خود ہی یہ تحریک کر دیں کہ ہائی سکول کو توڑ دیا جائے اور اس کی بجائے علماء کی ایک جماعت تیار کی جائے ، ہائی سکول اور بھی بہت ہیں اور ہمارے بچے ان میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔اس وقت علماء کی ضرورت ہے اور ان کے تیار کرنے کے لئے ایک دینیات سکول کی ضرورت ہے ہائی سکول کی ضرورت نہیں عجب یہ ہے کہ وہی لوگ جو انگریزی زبان کے حامی تھے وہی اس بات پر آمادہ ہو گئے کہ ہائی سکول توڑ دیا