انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 564

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۶۴ تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام نہیں جاتی تو مطالعہ میں یہ بات دیکھی ہو کہ شہد کی مکھیاں ایک ملکہ کے ماتحت ہوتی ہیں۔جب چھتہ شہد سے بھر جاتا ہے اور شہد تیار ہو جاتا ہے تو انسان جو اپنے آپ کو تمام مخلوقات کا مالک کی سمجھتا ہے شہد کے جمع کرنے اور اسے نکال لینے کے لئے چھتہ پر جاتا ہے اور اُس کے نیچے کی دھواں رکھ دیتا ہے تا شہد کی مکھیاں اُڑ جائیں یا سمٹ کر ایک طرف ہو جائیں۔شہد کی مکھیوں کی نو جوان پودوہ نئی پود جو اپنی عمر کو باقی سمجھتی ہے اور اس دنیا میں اپنا ایک زندہ مقصد قرار دیتی ہے وہ ملکہ کی سب سے بڑی بیٹی کو جو اُن کی آئندہ ہونے والی ملکہ ہوتی ہے یا انسانوں کی زبان میں وہ ان کی ولی عہد ہوتی ہے لے کر اڑ جاتی ہیں اور پیشتر اس کے کہ شہد کا چھتہ تباہ کیا جائے اور کی اُس سے شہد نکال لیا جائے وہ نیا چھتہ بنالیتی ہیں اور نئے سرے سے اپنی زندگی کو شروع کر دیتی ہیں اور اپنے لئے ایک نیا مقام اور نیا مرکز بنا نا شروع کر دیتی ہیں۔یہ خدائی قدرت کا ایک بھاری معجزہ ہے کہ ایک چھوٹا سا جانور جس میں سوائے تھوڑی سی رطوبت کے کچھ بھی نہیں ہوتا، نہ ہڈیاں ہوتی ہیں نہ فقرات ظھر ہوتے ہیں ، نہ سانس لینے کے لئے سینہ ہوتا ہے ، نہ جگر اور گردہ ہوتا ہے اسے مارو تو پیچک کر رطوبت نکل جاتی ہے اور تھوڑی سی کھال اور تھوڑے سے پر اور چند چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کا مجموعہ جو صرف سر کی جگہ پر پائی جاتی ہیں باقی رہ جاتا ہے۔بظاہر یہ چھوٹا سا کیڑا ہے لیکن کام اور عزم میں انسانوں کی بڑی بڑی کی سمجھدار اور مہذب قوموں سے بھی زیادہ تنظیم، استعداد اور عزم اپنے اندر رکھتا ہے۔پس یہ قدرت کا ایک بہت بڑا معجزہ ہے مگر اس میں صرف ایک بات پائی جاتی ہے۔صرف ایک پہلو معجزہ کا ہمیں نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے مکھیوں کی جوان نسل تباہی اور بربادی کے آنے پر یہ فیصلہ کر لیتی ہیں کہ ہم مریں گی نہیں اور اپنی خزاں کو بہار سے بدل دیں گی۔یہ عزم جونئی پودرکھتی ہے اور کسی حد تک یہ بات قدرتی نظر آتی ہے نوجوانوں کے لئے اس میں بہت بڑا سبق ہے اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ کم از کم تم میں ایک مکھی سے تو زیادہ عزم ہونا چاہئے۔جب شہد کا چھتہ اُجاڑ ا جاتا ت ہے تو نو جوان لکھیاں انسان کو چیلنج کرتی ہیں کہ تم نے ہمیں اجاڑا ہے لیکن تم ہمارے عزم کو نہیں اُجاڑ سکتے ہم اس کے ساتھ ایک نیا چھتہ تیار کریں گی۔اسی طرح ہم ہر مصیبت ، ہر آفت ، ہر ابتلاء اور ہر امتحان کے موقع پر اپنی نسلوں اور اولادوں کو کہہ سکتے ہیں کہ اے اشرف المخلوقات کی