انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 550

انوار العلوم جلد ۲۱ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب ہیں باخدا کمیونسٹ ہو جائیں گے۔وہ احمق اتنا بھی نہیں جانتے کہ بعض افکار میں خدا تعالیٰ کا خیال پنپ سکتا ہے اور بعض میں نہیں پنپ سکتا۔جیسے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم پتھر پر گندم ہونا چاہو تو نہیں ہو سکتے۔پس یہ کہنا کہ ہم متضاد افکار کو جمع کر لیں گے یہ بالکل غلط ہے۔یہ چیزیں ہیں جو اسلام کی کامیابی کے راستہ میں زیادہ سے زیادہ روکیں پیدا کر رہی ہیں۔یورپ کا آدمی اپنے ہتھیار پھینک کر اس کا مقابلہ کر سکتا ہے ، امریکہ اپنی جگہ بدل کر کمیونزم کا مقابلہ کر سکتا ہے، انگلینڈ اپنی جگہ بدل کر کمیونزم کا مقابلہ کر سکتا ہے کیونکہ اُن کی جگہ معین نہیں لیکن ایک مسلمان ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ اس کی جگہ معین ہے اور اسلام نے اس کے لئے ایک حد مقرر کر دی ہے جس سے وہ ذرا بھی اِدھر اُدھر نہیں ہو سکتا۔ایک انگریز یا ایک امریکن کمیونزم کے دباؤ کے ماتحت اپنی جگہ سے کتنا بھی ہل جائے میرے لئے ایک انچ بھی اِدھر اُدھر ہونا جائز نہیں کیونکہ میرے لئے اسلام نے ایک حد مقرر کر دی ہے۔وہ کہتا ہے تم ایک انچ بھی اِدھر ہوئے تب بھی کافر ہو جاؤ گے اور ایک انچ اُدھر ہوئے تب بھی کافر ہو جاؤ گے۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام کو بھی قائم رکھیں اور کمیونزم کے خطرہ کو بھی دُور کرنے کی کوشش کریں۔اور یہ چیزیں ایسی ہیں جن پر نئے زاویہ نگاہ سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔اس کے لئے نئے افکار اور نئی جدو جہد کی ضرورت ہے۔اگر ہم اس غرض کے لئے اپنی کوششوں کو صرف نہیں کریں گے تو گوا سلام کی فتح پھر بھی یقینی ہے مگر ہماری شکست میں کوئی شبہ نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ بعض اور لوگوں کو کھڑا کر دے گا جو اُس کے دین کے لئے قربانیاں پیش کریں گے اور ہم اس کی مدد اور کی نصرت سے محروم ہو جائیں گے حالانکہ ایک مومن کے لئے جہاں یہ امر خوشی کا موجب ہوتا ہے کہ اُس کا خدا جیت جائے وہاں اگر وہ پاگل نہیں اور اگر اُس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی سچی محبت پائی جاتی ہے تو وہ یہ بھی خواہش رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ میں بھی جیت جاؤں۔پس یہ سوال نہیں کہ اسلام کو فتح حاصل ہوگی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ میرے ہاتھ سے اسلام کو فتح ہو اور میرے ہاتھ سے کفر کی موت واقعہ ہو۔اگر میرے ہاتھ سے کفر کے دیو شکست کھا جائیں اور اگر میرے ہاتھ سے اُس کے بُت ٹوٹ جائیں تو میرے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوسکتی ہے ہے۔۔