انوارالعلوم (جلد 21) — Page 542
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۴۲ علمائے جماعت اور طلبائے دینیات سے خطاب ہیں کیا آپ اسلام میں کوئی تبدیلی کرنے کے لئے آئے ہیں؟ میں کہتا ہوں نہیں۔اس پر وہ عجیب قسم کی مسکراہٹ ظاہر کر کے کہتے ہیں کہ پھر ہم آپ پر کیوں ایمان لائیں۔یہ ایک ایسی مشکل ہے جس کا مقابلہ کرنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔پس پہلے لوگوں کی مشکلات اور رنگ کی تھیں اور ہماری مشکلات اور رنگ کی ہیں، اُن کے سامنے اور سوالات تھے اور ہمارے سامنے اور سوالات ہیں۔پھر بڑی دقت یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں ایسی قومیں غالب ہیں جن کی اسلام کے ساتھ ایسی شدید دشمنی ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم یہود کو اسلام کا کی شدید ترین دشمن پاؤ گے لیکن اس زمانہ میں اسلام کا شدید ترین دشمن عیسائی ہے۔اگر یہودی دشمنی کرتا ہے تو وہ بھی عیسائی کی مدد سے ہی کرتا ہے۔جب امریکہ کی مدد اس کے پیچھے ہوتی ہے جب فرانس اور دوسرے ممالک کی تو ہیں عرب ممالک کا رُخ کر لیتی ہیں تو عرب جانتا ہے کہ اب کی سوائے مونچھیں نیچی کر لینے کے میرے لئے اور کوئی چارہ نہیں۔غرض ہمارے لئے قدم قدم پر کی مشکلات ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہماری کامیابی کے راستہ میں جو چیز سب سے زیادہ حائل ہے وہ یہ ہے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق یہ اعتقاد ر کھتے ہیں کہ آپ کی کوئی نئی چیز نہیں لائے۔آپ اسلام کو ہی دوبارہ دنیا میں قائم کرنے کیلئے مبعوث ہوئے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہماری طرف سے کوئی نئی چیز پیش کی جاتی تب بھی لوگ مخالفت کرتے کیونکہ لوگوں کی مخالفت کیلئے کوئی نہ کوئی بہانہ چاہئے جو انہیں مل جاتا ہے۔ہمارے ملک میں قصہ مشہور ہے ایک مالدار شخص تھا اُس کی یہ عادت تھی کہ ادھر شادی کرتا ہے اور اُدھر چند دنوں کے بعد ہی کوئی بہانہ بنا کر عورت کو طلاق دے دیتا اور اُس کے زیورات اور کپڑے وغیرہ خود رکھ لیتا۔بہانے بنانے تو کوئی مشکل ہی نہیں ہوتے کسی کو کسی بہانہ پر اور کسی کو کسی وجہ سے طلاق دے دیتا۔اس طرح اس نے یکے بعد دیگرے کئی عورتوں کو طلاق دی۔آخر ایک ہوشیار لڑکی کی اُس سے شادی ہو گئی۔اُس نے کوشش کی کہ کوئی بہانہ ملے تو اسے طلاق دے دوں مگر وہ کوئی موقع پیدا نہ ہونے دیتی۔خود ہی کھانا پکاتی ، خود ہی کپڑے وغیرہ دھوتی اور خود ہی گھر کے تمام کام کرتی۔جب کئی دن گزر گئے اور طلاق دینے کا اُسے بہا نہ نہ مل سکا تو تنگ