انوارالعلوم (جلد 21) — Page 524
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۲۴ اسلام اور ملکیت زمین (۸) ملک کی اُفتادہ زمینوں زمینداروں کی حالت درست کرنے کے لئے میرے نزدیک ملک کی اُفتادہ زمینوں کے صحیح کو قابل کاشت نہ بنانا استعمال کی طرف توجہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اس وقت گورنمنٹ کے پاس بہت سی زمینیں پڑی ہیں اور جو غیر مسلم زمینیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں اُن کا بھی بہت سا حصہ ابھی نکلوانے کے قابل ہے۔اگر ان تینوں ذرائع سے زمین کو محفوظ کیا جائے یا قابل کاشت بنایا جائے تو ابھی سو سال تک زمیندارہ سوال ہمارے لئے کوئی مشکل پیدا نہیں کرسکتا۔اگر گورنمنٹ تحقیقات کرائے تو اُسے معلوم ہوگا کہ سندھ میں کئی لاکھ غیر پاکستانی زمینداره یا زمینداره مزدوری کر رہا ہے۔یہ لوگ بیکا نیر ، جیسلمیر، جودھ پور، جے پور، کچھ اور کھل کے علاقہ سے آتے ہیں اور مقاطعہ پر زمینیں لے کر کاشت کرتے ہیں یا زمیندارہ مزدوری کرتے ہیں۔اگر سندھ میں زمیندارہ مشکلات پیدا ہو چکی ہیں تو ان آدمیوں کو اُدھر سے بلوانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔وہ آدمی جو زیادہ ہے اور جس کے لئے جگہ نکالنے کی ضرورت ہے وہ اُن لوگوں کی جگہ کام کر سکتا ہے۔یہ لوگ جو اُدھر سے آتے ہیں بعض صورتوں میں بڑے منظم ہوتے ہیں اور بعض صورتوں میں کانگرس کے مقرر کردہ افسران کے ساتھ آتے ہیں۔خطرہ کے وقت میں یہ لاکھوں کی آبادی نہایت ہی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔مگر اس وقت تو میں کہتا ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ اپنے ملک کی آبادی کے لئے گزارہ کی صورت نہ پیدا کی جائے اور غیر ملک کے لوگوں کو یہ موقع دیا جائے؟ اگر کہا جائے کہ ہمارے ملک میں اتنا آدمی نہیں کہ وہ یہ کام کر سکے تو میں کہوں گا کہ سندھ کے متعلق تو یہ بالکل درست ہے مگر ساتھ ہی اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ سندھ میں کوئی زمیندارہ سوال نہیں یہ سوال بناوٹی طور پر پیدا کیا جارہا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ گورنمنٹ کی زمینیں جن میں نئی نہریں نکالی جا رہی ہیں اُن کو فروخت نہ کیا جائے بلکہ صرف مقاطعہ پر دیا جائے اور سوادِ عراق کی مثال سے فائدہ اٹھایا جائے۔میرے دل میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے خدا خیر کرے کہ ( غلط ہو ) کہ ہمارے بعض بڑے سیاسی لیڈر دل میں یہ سمجھ رہے ہیں کہ ابھی ہندوستان سے مسلمانوں کا کوئی اور ریلہ آنے والا ہے اور وہ ان تبدیلیوں سے اُن کے لئے جگہ نکالنا چاہتے ہیں۔میرے نزدیک تو یہ رائے اُن کی غلط ہے