انوارالعلوم (جلد 21) — Page 20
انوار العلوم جلد ۲۱ ۲۰ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء بہت سے لوگوں کے دلوں میں ایسا خیال پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے مجھے یہ رویا ہوئی ہے۔یہ سیدھی بات ہے کہ جو مشکلات ان کے سامنے پیش آئیں گی وہ ساروں کے لئے ہونگی اگر وہ نا قابل برداشت ہونگی تو صرف اُن کیلئے ہی نا قابل برداشت نہیں ہونگی بلکہ سب کے لئے نا قابل برداشت ہونگی اور اگر قابل حل ہوئیں تو جیسے باقی حل کر لیں گے وہ بھی حل کر لیں۔بہر حال یہ سیدھی بات ہے کہ کوئی شخص کسی سے ناممکن کام نہیں کراسکتا جو مشکلات پیش آئیں گی انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ یہ عقل کے خلاف ہے کہ سلسلہ جماعت کے دوستوں کو اُس کام کے کرنے پر مجبور کرے جس کا کرنا ان کے لئے ناممکن ہو۔اب میں اس کے متعلق ایک سوال لیتا ہوں جو بعض لوگوں کے دلوں میں وساوس پیدا کر رہا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ربوہ کی زمین کے متعلق مختلف قسم کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں اور لوگوں کی میں عام طور پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اگر قادیان ہمیں واپس مل جانا ہے تو پھر ایک نیا شہر آباد کرنے کی ضرورت کیا ہے ایک نئے شہر کا آباد کرنا بتاتا ہے کہ ہمیں قادیان کے واپس ملنے کے متعلق محبہ ہے۔میں جانتا ہوں کہ جماعت کے اندر کچھ منافقین پائے جاتے ہیں جو آہستہ آہستہ جماعت کے اندر وساوس پیدا کرتے رہیں گے وہ کہتے ہیں دیکھو! اگر قادیان کے واپس مل جانے کا ہمیں یقین ہوتا تو کسی اور شہر کے بسانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔دوسری جگہ ایک نیا شہر آباد کرنے کی کوشش کرنا وہاں سکول اور کالج وغیرہ بنانا اور دوسرے لوگوں کو وہاں آباد ہونے کی تحریک کرنا بتا تا ہے کہ انہیں یہ یقین ہے کہ قادیان واپس نہیں ملے گا۔اس اعتراض کے میں چند جواب دیتا ہوں۔اول میرے یا کسی اور کے دل کے وسوسہ کا یہاں سوال نہیں۔سوال یہ ہے کہ میرے ساتھ کسی کو عداوت ہو یا خلافت کے ساتھ کسی کو اختلاف ہو یا تنظیم سے کسی کو اختلاف ہو تو ایک اور بات ہے مگر جو شخص احمدی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر ایمان کی رکھتا ہے اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تو کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا۔آپ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمارا مرکز دائمی طور پر قادیان مقرر فرمایا ہے۔اب یہ جو آپ نے فرمایا ہے اس میں کسی جھوٹ کا امکان نہیں ہوسکتا نہ میرے وسوسے، میری کمزوری یا نظام کی کسی غلطی کی وجہ