انوارالعلوم (جلد 21) — Page 514
انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۱۴ اسلام اور ملکیت زمین زمیندار اور ان محکموں کے افسروں میں اُتنا ہی بعد ہوتا ہے جتنا زمین کے رہنے والوں اور سورج کے درمیان بعد ہے۔میں نے سر میکلیگن کے زمانہ میں اُن کو اِس نقص کی طرف توجہ دلائی کی تھی اور میرے کہنے پر انہوں نے سب انسپکٹر زراعت اور زراعتی مقدموں کا طریقہ جاری کیا تھا لیکن وہ طریقہ بھی کامیاب نہیں ہورہا کیونکہ اب تک اس محکمہ اور زمیندار میں برابری کا تعلق قائم نہیں ہوا۔ابھی تک ہمارا زمیندارا تنا گرا ہوا ہے کہ ایک مقدم بھی اُس کیلئے ایک سرکاری افسر ہے اور بجائے اُس سے کچھ سیکھنے کے وہ اُس کی آمد پر اُس کی روٹی پانی کے فکر میں ہی اپنا وقت گزار دیتا ہے۔(۲) سڑکوں اور ذرائع آمد ورفت کی کمی دوسری چیز جس کی وجہ سے ہمارا زمیندار ترقی نہیں کر رہا اور نہیں کرسکتا وہ یہ ہے کہ دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں ہمارے ملک میں سڑکوں اور دوسرے ذرائع آمد و رفت کی بہت کمی ہے۔پنجاب میں تو صرف چھوٹے دیہات میں یہ وقت ہے مگر سندھ میں تو یہ حالت ہے کہ بڑے بڑے قصبات اور سینکڑوں میل کے علاقے بغیر سڑکوں کے ہیں۔سندھ کے ایک نہایت ہی اہم ضلع میں جماعت احمدیہ کی طرف سے خیراتی کاموں کے لئے بہت سی زمین خریدی گئی۔وہاں کچھ زمین میں نے بھی خریدی ہوئی ہے۔ہمیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جانے کے لئے کوئی سڑک میسر نہیں صرف نہر والوں کی مہربانی سے ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے ہیں ورنہ شاید ہوائی جہاز کے سوا کوئی چارہ نہیں۔لیکن جب ہمارے زمیندار ہوائی جہاز رکھ سکیں گے تو شاید میرا یہ باب اُس وقت ایک بے کار چیز سمجھا جائے گا۔اس بات کا نتیجہ یہ ہے کہ سبزی ترکاری اور پھل لوگ نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ چیز میں سڑ جاتی ہیں اور کسی ایسی جگہ پر نہیں پہنچ سکتیں جہاں اس کے خریدار موجود ہوں۔اور دوسرا نقص یہ ہوتا ہے کہ شہر کے لوگوں کے پاس بھی سبزی ترکاری کم پہنچتی ہے اُن کو سبزی ترکاری کے استعمال کی عادت نہیں رہتی۔اس لئے کی اگر کسی وقت سبزی وہاں پہنچ بھی جائے تو وہ اُس کے خریدنے سے بے رغبتی اختیار کرتے ہیں۔تیسرا نقص یہ ہوتا ہے کہ زمیندار چونکہ سبزی ترکاری محض اس لئے بوسکتا ہے کہ اُس کے بدلہ میں اُسے روپیہ ملے۔جب اُس کی سبزی ترکاری نہ منڈی تک پہنچ سکتی ہے نہ فروخت ہو سکتی ہے تو وہ