انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 488

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۸ اسلام اور ملکیت زمین المال کی ہوگئی اور قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص حکومت سے شرائط کے مطابق صحیح سودا کرے تو وہ اُس کا پورا مالک بن جاتا ہے اور اس لئے اُس زمین پر خراج نہیں رہتا اس لئے کہ امام نے جو اُس زمین میں مسلمانوں کا حصہ تھا اُس کے بدلہ میں خریدار سے قیمت وصول کر لی۔یعنی علامہ شامی یہ سوال اُٹھا کر مصر کی زمین جو خراجی تھی اب وہ عشری کیوں ہوگئی ہے؟ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ پہلے مصر خراجی تھا کیونکہ وہ فتح کیا گیا تھا اور فتح کے نتیجے میں وہ مسلمانوں کی کچ ملکیت ہو گیا تھا لیکن مصر کے رؤساء کے پاس ہی اُن کی زمینیں رہنے دی گئی تھیں اور حکومت جو مسلمانوں کی قائم مقام تھی وہ مسلمانوں کے حق کے طور پر اُن رؤساء سے خراج لیتی تھی۔اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آیا کہ وہ رؤساء اور زمیندار مر گئے اور اُن کی زمینیں لاوارثی کے طور پر کی پھر حکومت کے پاس آگئیں اور مسلمانوں نے حکومت سے وہ زمینیں دوبارہ خریدیں تو اب وہ کی خراجی نہ رہیں۔کیونکہ حکومت یعنی مسلمانوں کی نمائندہ طاقت نے زمین کی قیمت خریدار سے وصول کر لی اور اس طرح جو مالکانہ حصہ تھا وہ حکومت کے پاس چلا گیا۔پس خراج جو مالکانہ حصہ کے مقابلہ میں ہوتا ہے وہ روپیہ کی صورت میں حکومت کو مل گیا یا دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کو مل گیا۔اب صرف عشر رہ گیا جو خدا تعالیٰ کا حصہ ہے جس کو نہ کوئی معاف کر سکتا ہے نہ بخش سکتا ہے۔دیکھو! اس حوالہ میں کتنی وضاحت سے یہ بات بتا دی گئی ہے کہ خراج در حقیقت قائم مقام ہے اُس مالکانہ حق کا جو مفتوحہ ملک پر مسلمانوں کو حاصل ہوتا ہے۔جب کوئی شخص کوئی زمین حکومت سے خرید لے یا حکومت اُس کو بخش دے تو پھر اُس پر سے خراج اُڑ جاتا ہے اور صرف عشر باقی رہ جاتا ہے اور حکومت کو آئندہ اُس زمین کے متعلق کوئی اختیار باقی نہیں رہتا بلکہ خریدار کو یا جس کو ہبہ کے طور پر زمین دی گئی ہو گئی طور پر ملکیت کے حقوق حاصل ہو جاتے ہیں۔اقلیت کی رپورٹ میں مولانا ابوالکلام صاحب آزاد کا بھی ایک حوالہ دیا گیا ہے مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں مولانا ابو الکلام صاحب آزاد کو بھی شریعت کے متعلق کوئی خصوصی مقام حاصل ہونے کا دعویٰ نہیں نہ اُن کی طرف سے کوئی ایسی دلیل ہی پیش کی گئی ہے جس کو شرعی طور پر رڈ کرنے کی ضرورت ہے۔