انوارالعلوم (جلد 21) — Page 482
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۸۲ اسلام اور ملکیت زمین والبصرة ومصر لا بدلها من ان تشحن بالجيوش و ادرار العطاء عليهم فمن این يعطى هولاء اذا قسمت الارضون والعلوج فقالوا جميعا الرأى رأيك فنعم ماقلت ونعم ما رأيت ١٠٠ یعنی امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ مجھ سے اہلِ مدینہ کے کئی علماء نے بیان کیا ہے کہ جب عراق فتح ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ کیا اور ان سے پوچھا کہ شام و عراق میں جو زمین خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہے اُس کو کس طرح تقسیم کیا جائے۔اس پر لوگوں نے مشورہ دیا کہ اُن کے حقوق جو اموال غنیمت کے ہیں اور جوز میں انہوں نے فتح کی ہے وہ اُن میں فوراً تقسیم ہونی چاہئے۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ اُن مسلمانوں کا کیا حال ہوگا جو بعد میں آئیں گے اور وہ دیکھیں گے کہ زمین کا ہر ٹکڑہ اور اُس کے کسان تقسیم ہو چکے ہیں اور باپ دادوں سے دوسرے لوگوں کو ورثہ میں ملے ہوئے ہیں۔میری یہ رائے نہیں۔خدا کی قسم ! میرے بعد کوئی اور ملک ایسا فتح نہیں ہوگا جس میں نیل جیسے دریا ہوں بلکہ ممکن ہے کہ ایسے ملک فتح ہوں جو مسلمانوں پر بوجھ ہوں اور اُن کا خرچ مسلمانوں کو اُٹھانا پڑے۔پس اگر میں عراق کی کی زمین اور اُس کے کسانوں کو تقسیم کر دوں اور شام کی زمین اور اُس کے کسان کو تقسیم کر دوں تو کی اسلامی ملک کی سرحدوں پر لڑائی کا خرچ کہاں سے اُٹھایا جائے گا اور آئندہ اولاد کے لئے کیا کی بچے گا اور اس ملک اور شام اور عراق کے رہنے والے لوگوں اور بیواؤں کو کیا ملے گا۔میری رائے تو یہ ہے کہ میں یہ زمینیں اور اُن کے کسانوں کو روک لوں اور اُن کے اوپر ایک خراج مقرر کر دوں اور اس طرح شرعی طور پر ایک جزیہ مقرر کر دوں جو وہ دیتے رہیں۔پس یہ ایک مال ہوگا اُن مسلمانوں کے لئے جو آئندہ جنگ میں حصہ لیں گے اور اُن کی اولادوں کے لئے اور اُن لوگوں کے لئے جو اُن کے بعد آئیں گے۔کیا تمہاری رائے نہیں کہ یہ اسلامی سرحد میں اِس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ وہاں فوجیں رہیں جو ہر وقت اُن کی نگہداشت کریں؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ یہ بڑے بڑے شہر جیسے دمشق اور جزیرہ اور کوفہ اور بصرہ اور مصر کے لئے ضروری ہے کہ فوجوں کے ساتھ اُن کی حفاظت کی جائے اور مقررہ وظائف فوجیوں کو ملتے رہیں؟ اگر یہ زمینیں اور ان کے کسان تقسیم کر دئیے جائیں تو وہ فوجی کس روپیہ سے مہیا کئے جائیں گے جن کی