انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 467

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۷ اسلام اور ملکیت زمین یہ حدیث رسول نہیں بلکہ رافع کا غلط خیال تھا )۔جیسا کہ میں اوپر درج کر آیا ہوں جن علماء نے رافع بن خدیج کی روایت کو صحیح تسلیم کیا ہے انہوں نے بھی یہ فتویٰ دیا ہے کہ یہ ابتدائے اسلام کا حکم تھا بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کو منسوخ فرما دیا اور خیبر کی زمینیں مقاطعہ پر دیں اور آخر عمر تک برابر مقاطعہ دیتے رہے اور اسی طرح آپ کے بعد خلفاء اور صحابہ کرتے رہے یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے کیوں منع فرما دیا اور پھر کیوں اِس کو جائز قرار دے دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ جب ایک بُرائی کسی قوم میں رائج ہوتی تھی جس کی اصلاح کی جاسکتی تھی تو آپ پہلے اُس سے قطعا منع فرما دیا کرتے تھے۔جب قوم کی عادت درست ہو جاتی تو پھر اصلاح شدہ امر کو جاری فرما دیتے تھے۔چونکہ مدینہ کے لوگوں میں اوپر کے بیان کردہ مقاطعہ کے طریق کے سوا اور کوئی رائج نہیں تھا اور اس طریق میں جوئے بازی کا رنگ پایا جا تا تھا اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر کہ ساری کی ساری قوم ایک عادت میں مبتلا ہے پہلے اس سے قطعاً منع فرما دیا کہ پھر جب دیکھا کہ وہ عادت ان کی چھٹ چکی ہے تو پھر وہ طریق جو اسلام کے مطابق تھا جاری کی کر دیا یعنی ساری پیداوار پر خواہ وہ کناروں کی ہو یا بیچ کی ہو، تھوڑی ہو یا بہت ہو اُس کو جمع کر کے زکوۃ دینے کے بعد اُس کا مقررہ حصہ مالک کو دے دیا جائے۔اس طریق کی میں ایک اور مثال پیش کرتا ہوں جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکیمانہ فعل پر روشنی پڑتی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عبدالقیس کا جور بیعہ قبیلہ کا ایک حصہ تھا ایک وفد آیا اور انہوں نے اسلام قبول کیا اور آپ سے چلتے وقت کچھ نصائح کی درخواست کی۔اس پر آپ نے اُن کو جہاں بعض اور نصیحتیں کیں وہاں یہ بھی فرمایا کہ تم سبز روغن کئے ہوئے برتن اور سوکھے کدو کے بنے ہوئے پیالے اور لکڑی کے کھود کر بنائے ہوئے برتن اور وہ برتن جن پر لگ لگایا گیا ہو استعمال نہ کیا کرو۔۹۳ اس کی وجہ در حقیقت یہ تھی کہ وہ لوگ ان چار برتنوں میں شراب بناتے تھے۔آپ نے اُن کی شراب کی عادت کا اندازہ لگا کر یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر یہ برتن ان کے سامنے آتے رہے تو پھر