انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 466

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۶۶ اسلام اور ملکیت زمین انحصار رکھا ہے وہ تو اس سے بھی آگے چلے جاتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ هـذه الـمـمـانعة على مصلحة خاصة بذلك الوقت من جهة كثرة مناقشتهم فى هذه المعاملة حينئذ ٥٨ یعنی یہ ممانعت خاص مصلحت کے ماتحت اُس محدود زمانہ کے لئے تھی کیونکہ اُس وقت اس بارہ میں جھگڑے بہت بڑھ گئے تھے۔طاؤس تابعی اور مفسر قرآن کہتے ہیں کہ مجھ سے مسلمانوں کے علماء میں سے سب سے بڑے عالم یعنی حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقاطعہ سے منع نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو زمین مفت دے دے تو یہ مقاطعہ سے بہتر رہے گی۔۸۹ میں یہ کہتا ہوں زمین اپنے بھائی کو مفت دے دینا یقیناً ایک احسان ہے اور احسان سود سے اچھا ہوتا ہے۔اسی طرح علامہ شوکانی نے ابن عباس کی یہ روایت درج کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقاطعہ سے منع نہیں فرمایا لیکن یہ فرمایا کہ مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے۔۹۰ علماء نے ان تمام احادیث پر غور کرنے کے بعد یہ فتوی دیا ہے کہ احادیث رافع بن خديج مضطرب المتون ولذلك ضعفها بعض المحدثين 2- یعنی رافع بن خدیج کی حدیث اس بارہ میں بہت سے اختلاف رکھتی ہے اس لئے بعض محدثین نے اس کو کمزور قرار دیا ہے۔ابن شہاب ( یعنی امام زہری جو ائمہ فقہاء اور محدثین کے استادوں میں سے تھے اور تابعی تھے ) فرماتے ہیں کہ میں نے سالم بن عبد اللہ (حضرت عمرؓ کے پوتے ) سے پوچھا کہ زمین کا مقاطعہ پر دینا کیسا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ سونے اور چاندی پر دینے میں تو کچھ بھی حرج نہیں۔اس پر میں نے کہا کہ آپ نے وہ حدیث تو سنی ہے جو رافع بن خدیج کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔آپ نے فرمایا رافع نے اس معاملہ میں تعدی سے کام لیا ہے۔اگر میرے پاس زمین ہوتی تو میں اُسے ضرور مقاطعہ پر دیتا ۲ ( اور اس حدیث کی کوئی پرواہ نہ کرتا کیونکہ