انوارالعلوم (جلد 21) — Page 465
انوار العلوم جلد ۲۱ اسلام اور ملکیت زمین رسول الله الله بما يكون على الساقى من الزرع فجاؤوا يختصمون فنهاهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يكروا بذلك وقال اكروا بالذهب والفضة ۵۵ یعنی سعید بن مسیب نے سعد بن ابی وقاص صحابی سے جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے یہ روایت کی ہے کہ زمینوں والے لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اپنی زمینیں مقاطعہ پر دیا کرتے تھے اور شرط یہ کیا کرتے تھے کہ جو نہروں کے کناروں پر فصل ہوگی وہ اُن کی ہوگی اور دوسری جگہ جو پانی سے دور ہوگی وہ مزارع کی ہوگی۔ایک دفعہ ایسے لوگ جھگڑتے ہوئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو اس شرط پر مقاطعہ دینے سے منع فرما دیا اور ارشاد فر مایا کہ چاندی اور سونے کے بدلے زمین دیا کرو۔امام محمد جو حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے اعلیٰ پایہ کے شاگرد تھے فرماتے ہیں کہ جعفر بن محمد نے اپنے والد سے یوں روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو مقاطعہ پر دینے سے منع نہیں فرمایا۔یہاں تک کہ لوگوں نے ایک دوسرے کے ظلم کی شکائیتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا ئیں۔بعض آدمی اپنی زمین مقاطعہ پر دیتے تھے اور یہ شرط کرتی لیتے تھے کہ بڑی نہر سے براہ راست جس زمین کو پانی لگے یا جو نہر کے کناروں پر اُگے وہ اُن کی ہوگی۔بعض دفعہ اس پر جھگڑا ہو جاتا ( مالک اچھی فصل دیکھ کر ایک لمبا قطعہ مقرر کر دیتا کہ یہ قطعہ نہر کے کنارے کا قطعہ ہے۔یا درمیان کی فصل خراب دیکھ کر مزارع عین نہر کے سرے پرنشان دہی کرتا تھا کہ اتنا چھوٹا سا حصہ نہر کا کنارہ ہے باقی نہیں) جب اس قسم کے جھگڑوں کی شکایت کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس قسم کے جھگڑے والی بات سے منع کی فرما دیا۔۸۶ پس امام محمد نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ نہی اس جھگڑے کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور حقیقی نہیں بلکہ ایک قید ہے۔علا مہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقاطعہ سے منع نہیں فرمایا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلط شرط سے منع فرمایا ہے۔۸۷ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب جن کے حوالوں پر زمینداری کے مخالفوں نے خاص طور ہے