انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 458 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 458

انوار العلوم جلد ۲۱ لد ٧٥ اسلام اور ملکیت زمین التمر والشعير قال لا تفعلوا ازرعوها او ازرعوها اوامسكوها ۷۵ یعنی رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں نے اپنے چچا ظہیر بن رافع سے سنا آپ فرماتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسی بات سے روکا جو ہمارے لئے بڑی سہولت والی تھی ۔ میں نے کہا کہ وہ کیا بات تھی؟ تو انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی زمینوں کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہم ان کو اس شرط کے ساتھ ٹھیکہ پر دے دیتے ہیں کہ ربیع ہماری اور کچھ کھجوریں اور کچھ جو ہمارے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا مت کرو۔ یا خود کھیتی کرو یا کسی کو کھیتی کرنے دو یا ز مین بنجر چھوڑ دو ۔ اس قسم کی بعض اور روایات بھی مسلم اور دوسری کتابوں میں پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نھی رسول الله الله ان يوخذ للارض اجر او حظ کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو منع فرمایا کہ ہم زمین کے بدلہ میں کوئی روپیہ لیں یا اس میں سے کوئی حصہ لیں ۔ انہی جابر سے ایک اور روایت بخاری میں بھی درج ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:۔ كانوا يذر عونها بالثلث والربع والنصف فقال النبي الله من كانت له ارض فـلـيـزرعها اوليمنحها فان لم يعفل فليمسك ارضه ۷ کے یعنی ہم لوگ تیسرے یا چوتھے حصہ پر یا نصف بٹائی پر زمین دیا کرتے تھے ۔ یہ معلوم کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو یا تو وہ خود کھیتی کرے یا دوسرے کو مفت دے دے ۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتا تو پھر اپنی زمین خالی پڑی رہنے دے کسی کو نہ دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس بارہ میں ایک ایسی ہی روایت درج ہے۔ بظاہر ان حدیثوں سے یہی معنی نکلتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو مقاطعہ پر دینے سے کلی طور پر منع فرمایا ہے اور صرف یہی اجازت دی ہے کہ جو شخص خود کاشت نہیں کر سکتا وہ اپنے کسی بھائی کو مفت زمین کاشت کرنے کے لئے دے دے یا خالی پڑا رہنے دے۔ چونکہ زمین کا خالی رہنے دینا جبکہ اس کے لئے کاشتکار موجود ہوں اسلامی اصول کے خلاف ہے اس لئے اس نہی کے دوسرے معنے یہی نکلیں گے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس امر کی