انوارالعلوم (جلد 21) — Page 435
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳۵ اسلام اور ملکیت زمین آخری فیصلہ تھا جو آپ نے خیبر میں نافذ کیا اور آپ کی وفات تک اس پر عمل کیا گیا اس لئے اگر کوئی حدیث اس کے خلاف ہے تو یہ فیصلہ اور یہ عمل اُس کو منسوخ کرتا ہے۔خلفاء اور صحابہ کا عمل بھی اسی کے مطابق تھا۔چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں زمین بٹائی پر دینے کا کام جاری رکھا تھا۔چنانچہ فتح الباری شرح صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب یمن سے یہودیوں اور عیسائیوں کو نکال دیا تو اُن کی زمینیں لوگوں کو ٹھیکہ دیں اور شرط یہ کی کہ اگر وہ تمام قسم کے اخراجات خود برداشت کریں تو دو تہائی اُن کا اور حکومت کا ایک ثلث حصہ ہوگا اور اگر عمر یعنی حکومت بیج اپنے پاس سے دیں تو نصف عمر یعنی حکومت کو ملے گا اور نصف مزارعین کو ملے گا۔بعض روایتوں سے پتہ لگتا ہے کہ بعض جگہ پر اس میں کسی قدر تبدیلی بھی ہوئی اور اس طرح بھی مقاطعہ دیا گیا کہ اگر بیج بیل اور سامان کا شت حضرت عمر یعنی کی حکومت دے تو حکومت کو دو تہائی اور مزارع کو ایک تہائی ملے گا۔اور اگر یہ چیزیں مزارع دیں تو پھر آدھا حکومت کا ہوگا اور آدھا اُن لوگوں کا ہوگا۔۴۵ اسی طرح بخاری باب المزارعہ میں یہ حدیث درج ہے۔قال قيس بن مسلم عن ابی جعفر قال ما بالمدينة اهل بيت هجرة الا يزرعون على الثلث والربع و زارع على وسعد بن مالک و عبدالله بن مسعود و عمرو بن عبدالعزيز والقاسم و عروة بن زبیر و آل ابی بکر و ال عمر وال علی و ابن سیرین و قال عبدالرحمن بن الاسود کنت اشارک عبدالرحمن بن يزيد في الزرع - یعنی ابی جعفر کی روایت ہے کہ مدینہ کے مہاجرین کا ایک خاندان بھی نہیں تھا جو تیسرے یا چوتھے حصہ کی بٹائی پر زراعت نہیں کرتا تھا۔چنانچہ حضرت علی اور سعد بن مالک اور عبداللہ بن مسعود اور عمر و بن عبد العزیز اور قاسم اور عروہ بن زبیر اور خاندانِ حضرت ابو بکر اور خاندانِ حضرت عمرؓ اور خاندانِ حضرت علی اور مشہور تابعی ابن سیرین یہ سب کے سب زمین بٹائی پر دیا کرتے تھے۔عبدالرحمن بن الاسود کہتے ہیں کہ میں بھی عبد الرحمن بن یزید کے ساتھ مل کر یہ کام کیا کرتا تھا۔اس حدیث پر علامہ ابن حجر اپنی کتاب فتح الباری جلد ۵ صفحہ ے میں یہ نوٹ لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے یہ روایت نقل کر کے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ بٹائی پر زمین دینے کے جواز میں کسی