انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 434

انوار العلوم جلد ۲۱ آٹھواں باب ۴۳۴ اسلام اور ملکیت زمین کیا زمین صرف بٹائی پر دی جاسکتی ہے یا لگان پر بھی دی جاسکتی ہے اور کیا اس کے لئے کوئی حد بندی مقرر ہے؟ یہ ثابت کر چکنے کے بعد کہ اسلام میں بڑی زمینوں کی ملکیت بھی جائز ہے اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جس کے پاس بڑی زمین ہو چونکہ وہ خود کاشت نہیں کر سکتا اور اُسے لازماً زمین دوسروں کو دینی پڑے گی تا کہ وہ اس کی طرف سے کاشت کریں اس کے لئے آیا اسلام نے کوئی چی قاعدہ مقرر کیا ہے یا مختلف طریقوں کو جائز رکھا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلام کے رُو سے زمین کو کاشت پر دینے کی کئی جائز صورتیں پائی جاتی ہیں۔اول زمین کو بٹائی پر دینا۔دوم زمین کو لگان پر دینا۔سوم زمین اپنے بھائیوں کی امداد کے لئے مفت دینا۔پہلی صورت یعنی بٹائی پر دینے کے متعلق پہلے مختلف ابواب میں احادیث نقل کی جاچکی ہیں اور بتایا جا چکا ہے کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زمین اس طرح پر یہودیوں کو کاشت کے لئے دی تھی۔اسی بارہ میں بعض اور احادیث اور اقوال بھی نقل کئے جاتے ہیں۔محلی ابن حزم جلد ۸ کتاب احکام المزارعہ میں لکھا ہے۔ان اخر فعل رسول الله الله الى ان مات كان اعطاء الارض بنصف ما يخرج منها من الزرع و من الثمر ففعله عليه السلام في خيبر هو الناسخ یعنی امام ابن حزم ( جو حدیث میں اتنا بڑا پا یہ رکھتے ہیں کہ ان کو چھوٹا احمد بن حنبل کہا جاتا ہے ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری فعل جو وفات تک جاری رہا یہ تھا کہ آپ پیداوار کی نصفا نصف بٹائی پر زمین مزارع کو دیا کرتے تھے اور کھجوروں کا باغ بھی پیداوار کی نصفا نصف بٹائی پر دیا کرتے تھے۔پس چونکہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا