انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 431

انوار العلوم جلد ۲۱ ساتواں باب ۴۳۱ اسلام اور ملکیت زمین کیا زمین کا خود کاشت کرنا ضروری ہے یا اُسے آگے لگان پر بھی دیا جا سکتا ہے؟ اوپر کے باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلامی شرع کے رُو سے ایک شخص زمین کے بڑے ٹکڑے کا بھی مالک ہو سکتا ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس بڑے ٹکڑے کو کیا کرے گا ؟ آخر کوئی شخص اتنے بڑے ٹکڑے کو خود کاشت نہیں کر سکتا۔یہی صورت ہو سکتی ہے کہ وہ دوسروں کو ملازم رکھ کر کاشت کروائے یا دوسرے لوگوں کو حصہ پر یا لگان پر کاشت کرنے کے لئے اپنی طرف سے زمین دے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کی رُو سے یہ جائز ہے کہ انسان اپنی زمین پر خود تو کاشت نہ کرے لیکن دوسروں سے کاشت کروا کے ان سے حصہ لے لے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں یہ جائز ہے اور خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔مسلمانوں میں اختلاف کی بنیا دشیعہ سنی سے پڑتی ہے۔تیسری پارٹی خوارج کی ان کے بعد آئی۔شیعوں کو سارا غصہ یہی ہے کہ حضرت ابو بکر نے باغ فدک کی جائیداد جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کے خاندان کے خرچ کے لئے مخصوص تھی اُسے آپ کا ترکہ قرار نہ دے کر حسب شریعت تقسیم نہ کیا۔اس جھگڑے سے تو ہمیں بحث نہیں کیونکہ اس جگہ پر ہم زمین کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ وہ زمین خواہ وقف تھی خواہ مملوکہ تھی اور خواہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اموال باقی مسلمانوں کی طرح ورثہ میں تقسیم ہو سکتے تھے یا آپ کے بعض ارشادات کے مطابق تقسیم نہیں ہو سکتے تھے، کیا اس کی کاشت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود کیا کرتے تھے یا آپ کے خاندان کے لوگ کیا کرتے تھے؟ زمین تو خیبر میں تھی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خاندان کے تمام مرد افراد مدینہ منورہ میں رہتے تھے وہ اس زمین کو کاشت کر ہی نہیں سکتے تھے۔بہر حال دوسرے لوگ ہی اس کی کاشت کرتے ہونگے۔پس خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم