انوارالعلوم (جلد 21) — Page 10
انوار العلوم جلد ۲۱ تقریر جلسہ سالانہ جماعت احمد یہ لاہور ۱۹۴۸ء مہاجر بھی ایسے جن کی جائیدادوں کو نہ بیچنے کی اجازت ہے اور نہ یہاں لانے کی اجازت ہے جو جائیداد یہاں لائی نہیں جاسکتی اسے فروخت کرنے کی اجازت نہیں اور جو لائی جاسکتی ہے اسے یہاں لانے کی اجازت نہیں۔ایسے لوگوں کے پاس روپیہ آیا کہاں سے جس سے وہ جدید ترین طریقوں پر ایک عظیم الشان شہر بسا سکیں۔اس موقع پر کسی بڑے شہر کے بسانے کا خیال بھی ہمارے دلوں میں نہیں آ سکتا۔مگر بہر حال ان وقتوں کی وجہ سے ہم وہاں جلسہ نہیں کر سکے کیونکہ آجکل سردی کا موسم ہے اور اس موسم میں بغیر اس کے کہ عمارتیں بنی ہوئی ہوں اور ہر قسم کے سامان مہیا ہوں جن سے انسان سردی سے بچ سکے کوئی اجتماع نہیں کیا جا سکتا اس لئے بڑے می غور وفکر کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جلسہ سالانہ ان دنوں کی بجائے ایسٹر ہالیڈیز (EASTER HOLIDAYS) میں کیا جائے۔ان دنوں چونکہ گرمی ہوتی ہے اس لئے رہائش کیلئے مکانوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔اگر خدانخواستہ ان دنوں میں عمارتیں تعمیر کرنے کا کوئی انتظام نہ بھی ہوا تو ہم جنگل میں بستر بچھا کر یا جو چیز بھی میسر آئی نیچے بچھا کر سو رہیں گے اور دن کی کے وقت اپنی ہی چادر میں پھیلا کر اور ان کے شامیانے بنا کر تقریریں کر لیا کریں گے اور اگر می اُس وقت تک خدا تعالیٰ نے عمارتیں تعمیر کرنے کی کوئی صورت پیدا کر دی تو اس سے بہتر جس قدر بھی ہو سکا سامان مہیا کرنے کی کوشش کریں گے بہر حال جلسہ سالانہ ایسٹر کی تعطیلات میں ہو گا۔اس جلسہ کے التوا سے جماعت احمد یہ لاہور نے فائدہ اُٹھا کر یہ فیصلہ کیا کہ ہم اس موقع پر اپنا جلسہ کر لیتے ہیں اور اُن کے ساتھ اس ارادہ کے نتیجہ میں بہت سی بیرونی جماعتوں کے افراد بھی آگئے اور انہیں بھی اس اجتماع میں شامل ہونے کا موقع مل گیا۔اس طرح میں سمجھتا ہوں لا ہور کی جماعت کو بھی ثواب مل گیا اور دوسرے لوگوں کو بھی ایک کی بجائے دو نیک تقریبوں میں شامل ہونے کا موقع مل جائے گا۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے ہمارا جلسہ سالانہ جو آئندہ ہو گا وہ ایسٹر ہالیڈیز میں ہوگا اور ہمارا ارادہ ہے کہ وہ اُسی جگہ کیا جائے جہاں ہم نیا مرکز بنانا چاہتے ہیں اس لحاظ سے وہ ہمارے نئے مرکز کا پہلا جلسہ ہو گا۔اس لئے ان دوستوں کے ذریعہ جو بیر ونجات سے آئے ہوئے ہیں یا جو پر تو نہیں آ سکے لیکن اخبار کے ذریعہ ان تک آواز پہنچ سکتی ہے میں جماعت کے احباب کو