انوارالعلوم (جلد 21) — Page 412
انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۲ اسلام اور ملکیت زمین ہو تو وہ اُس کے کھانے سے دوسروں کے جانوروں کو منع کرے یا وہ آگ جلائے تو دوسرے لوگوں کی کو آگ لینے سے منع کرے۔اسی طرح علامہ ابن قدامہ اپنی کتاب مغنی میں تحریر فرماتے ہیں۔المعادن الظاهرة وهي التي يوصل مافيها من غير موونة ينتابها الناس وينتفعون بهـا كـالـمـلـح والماء والكبريت والقير والمومياء والنفت والكحل والياقوت ومقاطع الطين واشباه ذلك۔۔۔۔۔لا تملك بالا حياء ولا يجوز اقطاعها لاحد من الناس ولا احتجار هادون المسلمين لان فيه ضررا بالمسلمين وتضييقا عليهم 19 یعنی وہ کا نہیں جن کو کھود کر اور تکلیف سے نکالنا نہیں پڑتا بلکہ وہ سطح زمین پر یا اس کے قریب ہوتی ہیں اور عوام الناس اُن کو کام میں لاتے اور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔جیسے نمک اور پانی اور گندھک اور کول تار اور مومیائی اور مٹی کا تیل اور سرمہ اور یا قوت اور مٹی لینے کی جگہیں اور اسی قسم کی چیزیں خواہ کوئی اس زمین پر جائز قبضہ کرے جس میں وہ پائی جاتی ہیں تب بھی یہ اشیاء می اُس کی ملکیت نہیں ہوں گی اور کسی بادشاہ کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان چیزوں کو کسی ایک شخص کے حق میں دے دے یا حکما اُن کا استعمال مسلمانوں کے لئے روک دے کیونکہ اس میں مسلمانوں کے لئے نقصان اور تنگی ہے۔اسی طرح علامہ ابن قدامه مغنی جلد ۴ صفحہ ۳۸۶ میں تحریر فرماتے ہیں:۔وكذا لايجوز احياء ما تعلق به حق العامة كما فى النهر والطريق يعنى اسى طرح شخصی ملکیت نہروں اور راستوں پر بھی تسلیم نہیں کی جاسکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا فیصلہ اور اس کے بعد علمائے اسلام کے اُس فیصلہ سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی تشریح میں ہے اور خالی عقلی بناء پر نہیں کیا گیا، یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی ملکیت محدود ہے اور بعض امور میں پبلک کے حق میں اُس کو اپنی ملکیت چھوڑنی پڑے گی۔مثلاً اگر کوئی پہاڑی نالہ کسی کی زمین پر سے گذرتا ہے تو اُس کے تی پانی کی ملکیت اُس کی نہیں ہوگی فوراً پبلک کی ملکیت ہو جائے گی۔یا حکومت کی ملکیت ہو جائے گی۔اسی طرح کوئی شاہراہ بھی اگر کسی کی ملکیت میں سے گزرتا ہے تو وہ اُس کی ملکیت نہیں ہو سکے گا بلکہ پبلک کا ہو جائے گا۔اسی طرح کا نہیں وغیرہ جو سطح زمین پر ہیں اور اُن کے لئے گہری