انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 411

انوار العلوم جلد ۲۱ تیسرا باب ۴۱۱ اسلام اور ملکیت زمین زمین کی ملکیت کو اسلام نے جن معنوں میں تسلیم کیا ہے اُن کے رُو سے وہ زمین کے مالک کو کیا کیا حق دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جو کچھ قرآن کریم اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت زمین کے مالک کو ویسے ہی تمام حقوق دیتی ہے جیسا کہ وہ کارخانوں کے مالک کو دیتی ہے یا تجارتی کوٹھیوں کے مالکوں کو دیتی ہے یا کانوں کے مالکوں کو دیتی ہے یا جڑی بوٹیوں یا جنگلوں کے خریدنے والوں کو دیتی ہے اس میں اسلام کوئی فرق نہیں کرتا۔ان تمام قسم کی ملکیتو کے متعلق اسلام کی طرف سے مندرجہ ذیل قیود عائد ہیں:۔اول: اصل مالک خدا ہے۔اُس کی ملکیت بہر حال قائم رہے گی یعنی خدا تعالیٰ جتنا چاہے گی فرد واحد کی ملکیت کو مقید کر سکتا ہے۔دوم: کوئی ملکیت ایسی شکل میں نہیں آسکتی کہ وہ ملکیت اپنی ذات میں دوسروں کے حقوق پراثر انداز ہو۔مثلاً زمین کی ملکیت کو لے لو۔کوئی شخص پانی کو زمین پر چلنے سے نہیں روک سکتا ، افراد کو جائز طور پر زمین پر چلنے سے روک نہیں سکتا۔جائز طور پر چلنے کے معنی یہ ہیں کہ جو پگڈنڈیاں بنائی جائیں اُن پر چلنے سے روک نہیں سکتا یا بغیر نقصان کے کھیتوں میں سے چلنے والے کو روک نہیں سکتا۔یہ مراد نہیں کہ کوئی شخص زبر دستی کسی کے کھیت کو تباہ کرنا چاہے تو وہ اُس کو بھی روک نہیں سکتا۔کوئی شخص غیر محدود زمانہ تک زمین کو اُفتادہ نہیں رکھ سکتا۔اگر زمین پر کام کرنے والے لوگ موجود ہیں تو وہ کام میں آنی چاہئے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے۔المسلمون شركاء في الماء والكلاء والنار ، یعنی لوگوں کو حق نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو پانی سے روکیں یا خود رو گھاس سے کسی کو روکیں یا آگ لینے سے کسی کو روکیں۔پس جائز نہیں ہوگا کہ اگر کسی کی زمین میں چشمہ ہو تو وہ وہاں سے پانی لینے سے لوگوں کو رو کے یا خود رو گھاس