انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 410 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 410

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۱۰ اسلام اور ملکیت زمین چھپی ہوئی کوئلہ کی کانوں سیسہ کی کانوں ، تانبے کی کانوں ، ہیرے اور جواہرات کی کانوں اور اسی طرح زمین کے صحراؤں، پانی کے نیچے کی مچھلیوں، ہوا کے پرندوں اور تمام باقی چیزوں کی ملکیت بھی عطا فرمائی۔بنی نوع انسان مشترک طور پر صرف کھیتی ہی کے مالک نہیں بلکہ پرندوں کے بھی مالک ہیں۔تمام اُن دواؤں کے بھی مالک ہیں جو کہ بوٹیوں سے تیار کی جاتی ہیں، تمام اُن مشینوں کے بھی مالک ہیں جو کہ لوہے سے بنائی جاتی ہیں۔تمام ان اشیاء کے بھی مالک ہیں جو خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ لکڑیوں سے بنائی جاتی ہیں۔غرض دنیا میں جس چیز پر کوئی قبضہ کر سکتا ہے ہے یا جس چیز کی کوئی قیمت پڑسکتی ہے ایسی ہر چیز کے تمام بنی نوع انسان مشترک طور پر مالک ہیں۔آگے خاص حالات میں اس مشترک ملکیت کو مقید کر دیا گیا ہے اور ایک خاص دائرہ میں شخصی ملکیت کو بھی تسلیم کر لیا گیا ہے لیکن قرآن شریف کی کسی آیت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں کارخانوں میں بننے والی چیزوں یا زمین کے اندر سے نکالی جانے کی والی چیزوں یا جنگل میں اُگنے والی چیزوں یا تجارت سے حاصل ہونے والے مالوں یا دریاؤں کے نیچے سے نکلنے والی چیزوں اور کھیتوں کی ملکیت میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔خدا تعالی یکساں مالک ہے کھیتوں کا بھی ، پہاڑوں کا بھی، دریاؤں کا بھی ، کارخانوں کا بھی اور تمام بنی نوع انسان یکساں مالک ہیں ان تمام چیزوں کے۔اور فرد ان چیزوں میں سے جتنے حصہ کا مالک ہے اُس کو ایک ہی قسم کے حقوق حاصل ہیں خواہ وہ کھیتی کا مالک ہو، خواہ کارخانے کا مالک ہو یا کانوں کا مالک ہو یا تجارتی گوداموں کا مالک ہو یا گورنمنٹ سے حاصل ہونے والی تنخواہ کا کی مالک ہو۔