انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 395 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 395

انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹۵ اسلام اور ملکیت زمین سے آٹھ دس میل کے فاصلہ تک کھجوروں کے باغات اور کھیتوں کا سلسلہ ممتد تھا اور ملکہ کے امراء ان باغوں یا کھیتوں کو خرید کر اپنے لئے گزارہ کی صورتیں پیدا کیا کرتے تھے۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کا مجمل اشارہ ملا تو آپ نے اُسی وقت ایک رؤیا کی بناء پر جس میں یہ دکھایا گیا تھا کہ آپ ایک کھجوروں والے علاقہ میں ہجرت کر کے گئے ہیں یہ سمجھا کہ طائف اور مکہ کے درمیان جو نخلہ مقام ہے اور جہاں کھجوروں کے بہت سے باغ ہیں شاید آ۔ہجرت کر کے وہاں تشریف لے جائیں گے۔آپ کا وہ اہم سفر جو طائف کی طرف آپ نے کی اختیار فرمایا وہ بھی اسی تعبیر کے نتیجہ میں تھا۔آپ نے خیال فرمایا کہ اگر نخلہ ہی وہ مقام ہے جدھر آپ کو ہجرت کرنی ہوگی تو غالباً طائف کے لوگ آپ پر جلد ایمان لے آئیں گے لیکن خدا تعالیٰ کی کے علم میں وہ مقام نخلہ نہ تھا بلکہ مدینہ منورہ تھا لے اس لئے طائف کے لوگوں نے بجائے ایمان لانے کے آپ پر پتھر برسائے اور آپ کو سخت ایذائیں دیں ہے یمن بھی ایک زرعی ملک ہے، دار لہجرت مدینہ منورہ بھی ایک زرعی علاقہ ہے، بحرین کا علاقہ بھی زرعی ہے اور کئی دوسرے کی عرب علاقے بھی زرعی ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے وقت عرب میں زراعت کی جاتی تھی۔لوگ زمینوں کے مالک تھے ، بڑے مالک بھی اور چھوٹے مالک بھی ، اس لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اسلام کے سامنے یہ مسئلہ نہیں آیا اس لئے اس نے اس مسئلہ کے متعلق کوئی روشنی نہیں ڈالی یا اس کے متعلق کوئی تفصیلات بیان نہیں کیں۔ہمارے نزدیک تو اسلام خدا تعالیٰ کا بھیجا ہوا مذہب ہے اور خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے۔وہ آئندہ آنے والے امور کے متعلق بھی قرآن کریم میں راہنمائی فرماتا ہے لیکن بعض مادی خیال کے لوگ ایسی دلیلیں بعض دفعہ پیش کر دیا کرتے ہیں کہ فلاں بات اسلام کے وقت میں نہیں تھی اس لئے اسلام میں اس کے متعلق اس تعلیم کا ملنا مشکل ہے۔ایسے لوگوں کا منہ بند کر نے کیلئے میں کہتا ہوں کہ زمین کی ملکیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پائی جاتی تھی اور یہ سوال پوری طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا۔پس ایسا سوال جو آپ کے سامنے آیا ، ایسا معاملہ جو خود آپ کی ذات سے گزرا اور آپ کے صحابہ کے ساتھ پیش آیا اُس کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ اسلام نے اس کے بارہ میں کوئی تعلیم نہیں دی یہ گویا اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ