انوارالعلوم (جلد 21) — Page 394
انوار العلوم جلد ۲۱ ۳۹۴ اسلام اور ملکیت زمین مسلم لیگ جس نتیجہ پر پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ زمینداری اور جاگیر داری کو جلد ختم کیا جائے۔مرکزی مسلم لیگ کے بعض ممبروں یا صوبجاتی مسلم لیگوں کے بعض ممبروں میں اگر کوئی اختلاف ہے تو اس بارہ میں ہے کہ ان دونوں چیزوں کو کس شکل میں ختم کیا جائے یا کس حد تک ختم کیا جائے۔یعنی کتنی زمین کسی کے پاس رہنے دی جائے یا کتنی قیمت کسی کو دی جائے لیکن اس پر سارے متفق ہیں کہ زمینداری اور جاگیرداری کو ختم کرنا چاہیے۔جہاں تک حکومت کے نمائندوں کے فیصلوں کا تعلق ہے مجھے اُس پر بحث کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ میں اس کا اہل ہوں کیونکہ سیاسی امور سیاسی لوگوں پر ہی چھوڑ دینے چاہئیں۔اگر ملک کی اکثریت کوئی قانون بنائے تو اقلیت کا فرض ہے کہ وہ اس قانون پر عمل کرے۔ہاں اگر مناسب سمجھے تو آئینی طریقوں سے اس کے بدلوانے کی کوشش کرے۔پس جہاں تک قانون کی کا سوال ہے ایک پاکستانی شہری ہونے کے لحاظ سے مجھے حق تو پہنچتا ہے کہ میں اس پر رائے زنی کروں لیکن بوجہ ایک مذہبی آدمی ہونے کے میں سمجھتا ہوں کہ مسئلہ کے اس حصہ کو میں سیاسی لوگوں پر ہی چھوڑ دوں۔مگر ایک بات ایسی ہے جس کے متعلق خاموشی کو میں جائز نہیں سمجھتا اور کی وہ یہ کہ اسلام کے نام پر کوئی ایسی بات کہی جائے جو اسلام سے ثابت نہ ہو۔اگر ایسا ہو تو پھر ہر مذہبی آدمی کا فرض ہے کہ وہ اُس وقت اسلام کی تعلیم کو واضح کر دے۔اس وضاحت کو ماننا یا نہ ماننا یہ دوسرے آدمی کا کام ہے لیکن اس کا واضح کر دینا ایک مذہبی آدمی کا فرض ہے اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کے سامنے جواب دہ ہوگا۔یا درکھنا چاہیے کہ زمینداری کا طریق اسلام کے بعد جاری نہیں ہوا بلکہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے یہ طریق دنیا میں کسی نہ کسی رنگ میں رائج چلا آتا ہے۔عرب بے شک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک ویران ملک تھا اور اس کی آبادی چند لاکھ افراد پر مشتمل تھی بوجہ صحراؤں اور بیابانوں کی کثرت کے اس میں کھیتی باڑی کم ہوتی تھی مگر پھر بھی کچھ ٹکڑے ایسے تھے جو بہت زرخیز تھے اور ان ٹکڑوں کی آبادی کے لئے چھوٹے چھوٹے قصبے یا شہر ان کے گرد بن ج گئے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ فرمایا تو اُس وقت ایسے قصبے اور شہر موجود تھے۔مکہ مکرمہ کے ہمسایہ میں طائف کا علاقہ زمیندارہ علاقہ تھا ، طائف سے چل کر مکہ